صنعاء:18 جنوری ( ایجنسیز)یمن کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے صدارتی حکم پر تشکیل دی گئی ایک خصوصی کمیٹی نے ملک کی صدارتی قیادت کونسل (پی ایس سی) کے برطرف نائب صدر میجر جنرل عیدروس الزبیدی کے خلاف سنگین انکشافات پر مبنی تحقیقاتی نتائج جاری کر دیے ہیں۔میجر جنرل عیدروس الزبیدی جن پر سنگین غداری اور ریاست کے خلاف دیگر جرائم کے الزامات عائد ہیں، اس وقت روپوش ہیں۔عرب نیوز نے اس کمیٹی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کی ایک کاپی دیکھی ہے جس سے انکشاف ہوتا ہے کہ میجر جنرل عیدروس الزبیدی پر اختیارات کے ناجائز استعمال بشمول کرپشن، زمینوں پر قبضے اور ذاتی فائدے کے لیے تیل کی تجارت کے الزامات ہیں۔سات جنوری کو صدارتی قیادت کونسل نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس کے تحت میجر جنرل عیدروس الزبیدی کی رکنیت منسوخ کر دی گئی اور ان پر سنگین غداری، مسلح گروہ بنانے، فوجی افسران و سپاہیوں کے قتل اور ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے گئے۔ساتھ ہی پراسیکیوٹر آفس کو تحقیقات کے لیے مکمل اختیارات دیے گئے تاکہ وہ ثبوت اکٹھے کرے اور ملوث افراد کو گرفتار کرے۔کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق میجر جنرل عیدروس الزبیدی ان تمام زیادتیوں کے ذمہ دار ہیں ’جس نے جنوبی صوبوں میں سیاسی اور عوامی تقسیم کی صورتحال پیدا کرنے میں حصہ ڈالا ہے۔‘میجر جنرل عیدروس الزبیدی سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ ہیں اور انہیں سات جنوری کو ریاض میں مذاکرات کے لیے موجود ہونا تھا لیکن وہ آخری لمحات میں فرار ہو گئے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہوں نے عدن فری زون، العمال جزیرے، بیر فضل اور راس عمران جیسے علاقوں میں زمینوں کے بڑے ٹکڑوں پر قبضہ کیا۔
مزید برآں یمن پیٹرولیم کمپنی اور اس کے ڈائریکٹر طارق الولیدی پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ عیدروس الزبیدی کے برادرِ نسبتی جہاد الشوذبی اور وزیر ٹرانسپورٹ عبدالسلام حمید سے وابستہ کمپنی کے علاوہ کسی سے ایندھن درآمد نہ کریں۔