لکھنؤ: اترپردیش پولس کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اعظم گڑھ میں فرضی مدارس کا اندراج کروانے کے لیے سات سرکاری عہدیداروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے، جن میں سے کچھ عہدیداروں نے مبینہ طور پر جدید کاری کے لیے ریاستی گرانٹ بھی حاصل کی تھی، جس سے ریاست کے سرکاری خزانے کو بہت بڑا نقصان پہنچا۔ یہ فرضی مدارس 2008 اور 2010 کے درمیان رجسٹرڈ ہوئے تھے۔ 19 دسمبر 2022 کو محکمہ داخلہ کے اجلاس ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فرضی مدارس کی تحقیقات کے لیے ایس آئی ٹی کو حکم دیا جائے گا۔ ایف آئی آر 313 مدارس کی اندرونی جانچ کے بعد درج کی گئی تھی جس میں 219 جعلی پائے گئے تھے۔ اس کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے سات عہدیداروں اور ان کے معاونین کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جنہوں نے فرضی دستاویزات تیارکرکے 219 غیر موجود مدارس کو تسلیم کروایا تھا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ ملزم نے تحقیقات کو روکنے کے لیے اہم سرکاری دستاویزات کو غائب کر دیا اور غیر موجود مدارس کو دوبارہ پینل لگا کر اور ان اداروں کو فنڈز فراہم کر کے سرکاری فنڈز میں غبن کیا۔ اس مقدمہ میں نامزد افراد کی شناخت رجسٹرار جاوید اسلم، ضلع اقلیتی افسران (ڈی ایم او) لالمان، عاقل احمد خان اور پربھات کمار، کلرک سرفراز، وقف انسپکٹر منار رام، کلرک ان وقف اوم پرکاش اور دیگر عہدیداروں کے طور پر کی گئی ہے۔ ان کے خلاف آئی پی سی 420 (بے ایمانی)، آئی پی سی 409 (اعتماد کی خلاف ورزی) اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔