تشدد کے واقعات میں تلنگانہ چوتھے نمبر پر ، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ
حیدرآباد ۔یکم ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت لاء اینڈ آرڈر کے معاملہ میں ملک میں نمبر ون ریاست ہونے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن فرقہ وارانہ منافرت کے مقدمات میں حیدرآباد ملک کے دیگر بڑے شہروں میں سرفہرست ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کی جانب سے جاری کردہ کرائم ان انڈیا 2021 ء کے مطابق مسلسل تیسرے سال حیدرآباد کو ملک کے 19 میٹرو پولیٹن شہروں میں فرقہ وارانہ منافرت کے تحت آئی پی سی کی دفعہ 153(A) کے مقدمات میں حیدرآباد سرفہرست رہا۔ 2021 ء میں حیدرآباد میں 28 کیسس درج کئے گئے جبکہ دہلی میں 17 اور کوئمبتور میں 14 کیسس شامل ہیں۔ ملک کے 19 میٹرو شہروں میں جملہ 121 کیسس سیکشن 153 A کے تحت درج کئے گئے جن میں حیدرآباد کے کیسس 23 فیصد ہیں۔ مجموعی کیسس کے اعتبار سے تلنگانہ چوتھے نمبر پر رہا جہاں جملہ 86 کیسس درج کئے گئے جبکہ ٹاملناڈو میں 91 کیسس درج کئے گئے ۔ 2020 کے مقابلہ 2021 ء میں کیسس کی تعداد میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔ زیادہ تر مقدمات نفرت انگیز تقاریر سے متعلق ہیں جبکہ دیگر مقدمات مختلف طبقات میں منافرت پیدا کرنے کی کوششوں سے متعلق ہیں۔ 2021 ء میں تلنگانہ میں تشدد کے 562 کیسس درج کئے گئے جن میں سے 135 کیسس متنازعہ اراضیات پر جھگڑے سے متعلق ہے جبکہ سیاسی نوعیت کے 53 ، فرقہ وارانہ نوعیت کے 31 ، رقمی تنازعات کے 16 ، خاندانی تنازعات کے 22 ، شخصی دشمنی کے 50 ، احتجاج کے 7 اور پولیس ملازمین کے خلاف 31 کیسس درج کئے گئے۔ 235 کیسس دیگر وجوہات سے متعلق ہیں جبکہ 10 فیصد کیسس سائبر کرائم کے تحت ہے۔ کورونا وباء کے دوران سائبر کرائم کیسس کی تعداد میں اضافہ درج کیا گیا ہے اور زیادہ تر متاثرین سینئر سٹیزنس ہیں جنہیں آن لائین ادائیگی کے نام پر دھوکہ دیا گیا۔ ر