مودی نے سماج میں نفرت کا زہر گھول دیا، ہرش میندر کی تصنیف ’’ دلوں کی تقسیم ‘‘ کی رسم اجراء
’سیاست‘ ملت فنڈ سے سالانہ ایک کروڑ کی تعلیمی امداد،دہلی کے متاثرین میں ایک کروڑ کی تقسیم: جناب زاہد علی خاں
حیدرآباد۔ ممتاز دانشور ہرش میندر نے ملک میں نفرت اور فرقہ پرست طاقتوں سے نمٹنے کیلئے بڑے پیمانے پر تحریک کی ضرورت ظاہر کی اور کہا کہ نفرت کے خاتمہ کی ابتداء ہم اپنے دلوں سے کرسکتے ہیں۔ ہرش میندر کی انگریزی تصنیف ’’ پارٹیشن آف ہارٹ ‘‘ کا اردو ترجمہ ’’ دلوں کی تقسیم ‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ شائع کیا گیا۔ ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں نے رسم اجراء انجام دی۔ سنٹر فار ڈیولپمنٹ پالیسی اینڈ پریکٹس میں منعقدہ خصوصی تقریب کا اہتمام عامر اللہ خاں ( آئی اے ایس ) نے کیا تھا۔ کتاب میں ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں دلوں کو جوڑنے کیلئے ہرش میندر نے اپنے تجربات اور احساسات پیش کئے ہیں۔ انگریزی تصنیف کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ اس موقع پر ہرش میندر نے کہا کہ ہندوستان نے ملک کی تقسیم کے موقع پر ایک بٹوارہ دیکھا تھا لیکن اُس سے بڑا بٹوارہ دلوں کا بٹوارہ ہے۔ دلوں میں نفرت تیزی سے پھیل رہی ہے جس کا سامنا کرنا ضروری ہے۔ سیکولر پارٹیوں کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم اور اقلیتوں کے تحفظ کیلئے آگے آئیں۔ ہرش میندر نے کہا کہ اقلیتوں کا تحفظ اور ان کے دستوری حقوق کی فراہمی کیلئے ہمیں جمہوری انداز میں پُرامن طور پر سڑکوں پر آنا پڑے گا۔ یہ فیصلے حکومت یا عدالتوں سے زیادہ ہم اپنے دل میں کرسکتے ہیں۔ نفرت کا خاتمہ اور محبت کو جگہ دیتے ہوئے دستوری حقوق کی فراہمی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم میں تبدیلی نہیں آئے گی اس وقت تک حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں سے توقع کرنا فضول ہے۔
نفرت اور فرقہ پرستی کے خلاف جدوجہد طویل رہے گی۔ ہرش مندر نے کہا کہ یہ تصنیف دراصل ایک درد بھرے دل کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حکمراں طبقہ نے عوام کے دلوں میں نفرت کے جذبات کو بھردیا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران لاکھوں مائیگرنٹ ورکرس سڑک پر رہے اور یہ اپنی تاریخ کا منفرد واقعہ تھا لیکن سیاسی طور پر لوگ نریندر مودی کے حق میں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ نریندر مودی نے سماج میں نفرت کو نشہ کی طرح بھردیا ہے اور اس نشہ کے آگے عوام سب کچھ برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے ملک میں فرقہ پرست طاقتوں سے مقابلہ اور نفرت کے خاتمہ کیلئے قومی سطح پر ادارہ کی ضرورت ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ہرش مندر کو اس تحریک کی قیادت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہرش مندر اس تحریک کیلئے بہترین شخصیت ثابت ہوں گے۔ جب سے انہوں نے عہدہ سے استعفی دے کر سیکولرازم کیلئے کام کا آغاز کیا اس وقت سے روز نامہ ’سیاست‘ اُن کے ساتھ ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے ’سیاست‘ نے تعلیمی امداد کا آغاز کیا ہے۔ سیاست ملت فنڈ کے ذریعہ پروفیشنل کورسیس میں سالانہ ایک کروڑ روپئے کی امداد دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذریعہ ابتدائی تعلیم کیلئے امداد کی اسکیم روبہ عمل لائی جارہی ہے۔ انہوں نے تعلیمی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان تال میل کی ضرورت ظاہر کی تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو امداد فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ تاحال 3 تا 4 ہزار انجینئرس ’سیاست‘ کی امداد سے تیار ہوئے ہیں۔ ایم بی بی ایس کے 2 طلبہ کو فی کس 35 ہزار روپئے کی امداد منظور کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی فسادات کے متاثرین میں سیاست اور فیض عام ٹرسٹ کی جانب سے ایک کروڑ روپئے بازآبادکاری کیلئے حوالے کئے گئے۔ یہ رقم راست طور پر متاثرین تک پہنچائی گئی۔ حیدرآباد اور ممبئی کے فسادات میں بھی ’سیاست‘ نے ریلیف کا کام کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کے پاس دولت کی فراوانی کے باوجود اسراف کا رجحان ہے اور شادیوں پر بھاری رقومات خرچ کی جارہی ہیں۔ ’سیاست‘ نے شادیوں میں اسراف کے بجائے سادگی کی مہم شروع کی ہے اور مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دن میں شادی کا اہتمام کریں اور ایک پکوان رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں پر 4 تا 5 کروڑ روپئے بھی خرچ کرنے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ ہرش مندر نے تعلیمی اور معاشی امداد کی سرگرمیوں میں تعاون کا یقین دلایا۔