این سی پی اور کانگریس مہاراشٹرا کی اپوزیشن : جینت پاٹل
ممبئی ۔ 30 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس چہارشنبہ کے دن دوبارہ ریاستی بی جے پی مقننہ پارٹی کے قائد منتخب ہوگئے۔ تمام 105 نومنتخبہ بی جے پی ارکان اسمبلی اجلاس میں حاضر تھے جبکہ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر اور نائب صدر پارٹی اویناش رائے کھنہ بھی بحیثیت مرکزی مبصرین موجود تھے۔ یہ اجلاس ودھان بھون جنوبی ممبئی میں طلب کیا گیا تھا۔ تومر نے کہا کہ کسی دوسرے نام کی تجویز بی جے پی مقننہ پارٹی اجلاس میں کی گئی۔ پگڑی باندھے ہوئے فرنویس نے ارکان اسمبلی کا شکریہ ادا کیا کہ ان پر ارکان نے دوبارہ اعتماد ظاہر کیا ہے اور انہیں ریاست کی خدمت کرنے کا ایک اور موقع دیا ہے۔ انہوں نے صدر شیوسینا ادھو ٹھاکرے کا بھی شکریہ ادا کیا۔ یہ اجلاس اقتدار میں شراکت داری کی بی جے پی اور شیوسینا کی رسہ کشی کے پس منظر میں منعقد کیا گیا تھا جبکہ انتخابی نتائج 24 اکٹوبر کو منظرعام پر آئے تھے۔ شیوسینا کو 56، این سی پی کو 54 اور کانگریس کو 44 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ اسمبلی میں 288 نشستیں ہیں۔ ایک اور اطلاع کے بموجب صدر مہاراشٹرا این سی پی جینت پاٹل نے چہارشنبہ کے دن کہا کہ ان کی پارٹی اور ان کی حلیف کانگریس مہاراشٹرا میں اپوزیشن ہوں گے جیسا کہ عوام میں انہیں اختیار دیا ہے۔ پاٹل کا تبصرہ این سی پی کے شیوسینا کی امکانی تائید کی افواہوں کے پس منظر میں منظرعام پر آیا ہے جبکہ افواہ کے بموجب تشکیل حکومت کیلئے این سی پی شیوسینا کی تائید کرنے والی تھی جبکہ ادھوٹھاکرے زیرقیادت پارٹی کے اپنی حلیف بی جے پی کے ساتھ اقتدار میں شراکت داری کے تنازعہ کے سلسلہ میں کشیدہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے عوام نے اپوزیشن میں بیٹھنے کی ہدایت دی ہے اور ہم اپنا فرض ادا کریں گے۔ منگل کے دن این سی پی کے ترجمان اعلیٰ نواب ملک نے متبادل حکومت تشکیل پانے کا اشارہ دیا تھا کیونکہ بی جے پی ایوان اسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہی تھی۔
