فروغ صوفی تعلیمات کے لیے حکومت سے نمائندگی کا ادعا

   

کشمیر میں دفعہ 370 کی برقراری یا تنسیخ سے کوئی تعلق نہیں ، آل انڈیا صوفی کونسل کا بیان
حیدرآباد۔31اکٹوبر(سیاست نیوز) کشمیر میں دفعہ 370کی برقراری یا تنسیخ سے آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اس مسئلہ پر جن لوگوں نے کشمیر کا دورہ کرتے ہوئے صورتحال پیش کی ہے وہ ان کا شخصی مسئلہ ہوسکتا ہے۔ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین صابری امیر جامعہ جامعہ نظامیہ ‘ سجادہ نشین بارگاہ حضرت شاہ خاموشؒ و رکن تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ نے یہ بات واضح کی اور کہا کہ آل انڈیا صوفی سجادہ نشین کونسل کا قیام صیانت اوقاف اور فروغ صوفی اقدار و تعلیمات کے لئے عمل میں لایا گیا ہے۔ گذشتہ یوم سرزمین سلطان الہندخواجہ غریب نوازؒ اجمیر شریف میں منعقدہ اجلاس کے دوران مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری نے یہ بات واضح کرتے ہوئے کہہ دیا کہ حکومت کو کشمیر کے معاملہ میں کونسل کی جانب سے کوئی تجاویز روانہ نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی رپورٹ پیش کی جانی چاہئے ۔ دوران اجلاس مسٹر سید نصیر الدین چشتی نے بتایاکہ کونسل کے ذمہ داروں کی امیت شاہ سے ملاقات اور ان کا دورۂ کشمیر شخصی نوعیت کا تھا اور ان کے شخصی روابط کی بنیاد پر فروغ صوفی تعلیمات کیلئے حکومت سے نمائندگی کی گئی تھی ۔مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری جو کہ آل انڈیا صوفی و سجادہ نشین کونسل کے سرپرستوں میں شامل ہیں نے کونسل کی سرگرمیوں کو صیانت اوقاف اور صوفی تعلیمات کی حد تک محدود رکھنے کی تاکید کی اور کہا کہ جب کونسل میں شامل افراد نے شخصی طور پر کشمیر کا دورہ کیا ہے تو انہیں حکومت کو کوئی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کونسل کے اجلاس کے دوران کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ صوفی اور سجادہ نشین حکومت یا سیاست کے اعلی کار نہیں بن سکتے اسی لئے اس طرح کی حرکتوں سے اجتناب ہی بہتر ہے۔

اجلاس کی صدارت کونسل کے سرپرست اعلی سید زین العابدین علی خان دیوان بارگاہ خواجۂ خواجگاں نے کی ۔بتایاجاتا ہے کہ اجلاس میں اس مسئلہ پر وضاحت کے باوجود بھی کونسل کے لیٹر پیڈ پر دورہ کشمیر کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے یہ کشمیر ی عوام کے مسائل کو ’’ نام نہاد‘‘ قرارد یا گیا اور دعوی کیا گیا ہے کہ کشمیر کے بازار بند ہونے کی وجہ دباؤ کے تحت نہیں بلکہ عوامی خدشات کے تحت ہے۔ کونسل نے ادعا کیا کہ ان کا دورۂ کشمیر مکمل طور پر ’’کاروان امن‘‘ کے طور پر رہا اور وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں گے ۔ حکومت سے کونسل کے لیٹر پیڈ پر اس بات کی خواہش کی گئی کہ وہ کونسل کو کشمیر میں احیاء صوفی ازم کیلئے کام کرنے کا موقع فراہم کرے اور اس کے علاوہ کشمیری عوام کے جان و مال کے علاوہ ان کی جائیدادوں اور ملازمتوں کا تحفظ کرے۔ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی بعض بارگاہوں کے افراد اور بارگاہ نظام الدین ؒ نئی دہلی اور دیگر اولیائے اکرام کی بارگاہوں سے تعلق رکھنے والے خادم بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔آل انڈیا صوفی کونسل کے ذمہ داروں کے دورۂ کشمیر اور اس سے قبل ہونے والی امیت شاہ سے ملاقات کے بعد کشمیری عوام کی جانب سے ان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور بعض گوشوں کی جانب سے انہیں حکومت کی ایماء پر کشمیر کا دورہ کرنے والے قرار دیا جا رہا ہے۔مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری کے موقف کے باوجود حکومت کو ذرائع ابلاغ کے ذریعہ کونسل کی رپورٹ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کونسل کی ڈور کن لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔
کارپوریٹر کا ہیلتھ کیر سنٹر کا دورہ
شمس آباد ۔ 31 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : راجندر نگر کے علاقہ میلار دیوپلی میں کارپوریٹر سرینواس ریڈی نے ہیلتھ کیر سنٹر کا دورہ کیا ۔ مریضوں اور ان کے علاج کا جائزہ لے کر کہا کہ دواخانہ کی ترقی اور عصری سہولیات کے لیے کارروائی کرنے کا تیقن دیا اور انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ اپنے مکانات کے اطراف صفائی کا خیال رکھے تاکہ وبائی امراض سے محفوظ رہا جاسکے ۔ اس موقع پر ہیلتھ کیر سنٹر کے اسٹاف کے علاوہ دیگر افراد موجود تھے ۔۔