فسادیوں سے بچانے فون کیا،مگر پولیس انجان بن گئی

   

دہلی جلتارہا اور پولیس تماشائی بنی رہی،رکن پارلیمنٹ نریش گجرال کا اظہار افسوس

نئی دہلی ۔27فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) شرو منی اکالی دل
(SAD)
کے رکن پارلیمنٹ نریش گجرال نے وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے بتایا کہ شمال مشرقی دہلی میں اتوار کو پھوٹ پڑے تشدد کے دوران ان کے جاننے والوں نے ان سے مدد طلب کی تھی۔ جس کے بعد انہوں نے دہلی پولیس سے مدد مانگی تھی۔ لیکن دہلی پولیس نے وقت پر مدد فراہم نہیں کی ہے۔ نریش گجرال نے اپنے ساتھ اس واقعہ کی تفصیلات سے واقف کروانے کے لیے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس کمشنر امولیا پٹنائک کو خط لکھاہے۔نریش گجرال نے بتایا کل رات تقریبا ً11.30 بجے ، مجھے ایک جاننے والے کا فون آیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اور 15 دیگر مسلمان موج پور میں گونڈا چوک کے قریب ایک مکان میں پھنس گئے ہیں اور باہر ہجوم ان کے گھر میں گھس نے کوشش کررہاہے۔ نریش گجرال نے خط میں لکھا کہ انہوں نے پولیس ہیلپ لائن کو فون کیا اور صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے تمام تفصیلات فراہم کی۔نریش گجرال نے کہا کہ مجھے افسو س اب بات کا ہے کہ میری شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور دہلی پولیس کی جانب سے ان 16 افراد کو آج تک کوئی مدد نہیں ملی۔ اگر ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے ذاتی طورپر فون کیے جانے کے بعد پولیس کارروائی نہیں کرتی ہے تو حیرت ہوتی ہے۔ نریش گجرال کہا کہ دہلی کے کچھ حصے جلتے ر ہے اور پولیس تماشائی بنی رہی۔

’’فساد تو ہوتے رہتے ہیں‘‘
رنجیت چوٹالہ کا شرم ناک بیان
ہریانہ کی بی جے پی کی مخلوط حکومت میں وزیر رنجیت چوٹالہ نے دہلی تشدد پر نہایت شرم ناک اور غیر ذمہ دارانہ بیان دیا ہے۔ وزیر نے کہا کہ ’’دنگے تو ہوتے رہتے ہیں۔ پہلے بھی ہوتے رہے ہیں، ایسا نہیں ہے! یہ تو زندگی کا حصہ ہیں، جو ہوتے رہتے ہیں۔