فساد کا اثر ، جینور کا مثالی بازار 50 دن سے بند

   

مسلمان کشمکش و خوف کے شکار ، سینکڑوں افراد بیروزگار ، کلکٹر و ایس پی سے نمائندگیاں بے سود

کیرامیری ۔23 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) جینور میں 4ستمبر کے فساد کے تقریبا 50یوم گزر جانے کے باوجود جینور کے حالات میں کسی قسم کا سدھار نہ ہونے اور تمام تجارتی ادارے مکمل بند ہونے کی وجہ سے جینور کے مسلمان کشمکش اور خوف کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں ، واضح رہے کہ جینور ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور وہاں پر تقریبا 70فیصد تاجر مسلمان ہیں ، جینور منڈل کا بازار ایک مثالی بازار قرار دیاجاتا تھا اور جینور میں ہر قسم کے اشیاء بہت ہی واجبی داموں میں دستیاب ہوتی تھی جس کی وجہ سے عید وتہواروں کے موقع پر ضلع عادل آباد اور ضلع کے بی آصف آباد کے کئی علاقوں سے لوگ جینور کے بازار کو خریداری کے لیے آتے تھے ۔ اس کے علاوہ روزآنہ بھی کئی مواضعات سے ہزاروں لوگ جینور کے بازار سے ہی اشیاء کی خریداری کو ترجیح دیتے تھے ۔ جینور واطراف کے عوام کے بموجب جینور کے مسلم تاجر گراہکوں سے بہت ہی کم نفع حاصل کرتے ہوے اشیاء فروخت کرتے تھے جس کی وجہ سے جینور کا بازار بہت مشہور ہوچکا تھا لیکن جینور میں 4سبتمبر کے فساد کے بعد جینور کا بازار مکمل طریقہ سے بند ہے ۔کئی مرتبہ ضلع سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور ضلع کلکٹر سے جینور میں محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے جینور کے مسلم وفدکی جانب سے نمائندگی کیے جانے کے باوجود یہاں کے حالات میں سدھار لانے کی کوشش تک نہیں کرنا جینور کے عوام کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے ۔ اس میں مسلمانوں کے لیے لمحہ فکر یہ بھی ہے کہ کچھ ایام قبل ضلع کلکٹر و سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کی جانب سے جینور کے قبائلی و مسلم طبقہ کے ذمہ دار افراد کومستقر آصف آباد کے ضلع کلکٹر دفتر طلب کرتے ہوئے ان میں مفاہمت کی کوشش کی گئی اور دونوں طبقات سے الگ الگ بات کی گئی جس کے بعد ضلع کلکٹر نے کہاکہ مسلم ذمہ داران تو مفاہمت کے لیے تیار ہیں لیکن آدیواسی طبقہ کے ذمہ داران کے شرائط ہیں کہ جینور میں موجود غیر قبائلیوں کے خانگی مدارس کو بند کردیا جائے اور جی او نمبر 1/70 اور پیساایکٹ کے تحت جینور میں غیر قبائلیوں کو تجارت کی اجازت منسوخ کی جائے اور فساد میں تباہ شدہ عمارتوں کو مرمت کی اجازت نہ دی جائے ۔ جو بھی غیرقبائلی افراد جینور میں اراضی حاصل کی ہے اور اس اراضی پر پیسا ایکٹ کے خلاف ورزی کرتے ہوے پختہ عمارتیں بنائے ہیں ان پر قانونی کاروائی کی جائے اور غیر قبائلیوں کو جینور سے قبائلی علاقے سے بے دخل کیا جائے اس کے علاوہ اوربھی کئی مطالبات ضلع کلکٹر اور ایس پی کے سامنے رکھنے پر ضلع کلکٹر نے مذاکرات ناکام ہونے کی اطلاع دی تھی اس کے بعد پھر انتظامیہ کی جانب سے مفاہمت کی کوشش نہیں کی گئی۔ اتنے طویل عرصہ تک تجارتیں شروع نہیں کی گئیں جس سے جینور کے سینکڑوں افراد بیروزگاری کا شکار ہوچکے ہیں کیونکہ ان کو جینور و اطراف کے علاقوں میں بھی تجارت کی اجازت نہیں دیئے جانے کے اطلاعات ہیں اور جینور کے کئی مسلم تاجر جینور سے کافی دور دیگر مقامات پراپنے تجارتوں کو منتقل بھی کرچکے ہیں اگر ایساہی حال رہاتو جینور کے مسلمان معاشی پریشانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔
گلبرگہ میں تنظیم اردو صحافت و ادب کے زیراہتمام 26اکتوبر کو ادبی نشست
گلبرگہ ۔23 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) تنظیم اردو صحافت و ادب گلبرگہ کے زیر اہتمام بتاریخ 26اکتوبربروز ہفتہ بوقت دوپہر 2بجے بہ مقام حلیمہ انگلش میڈیم اسکول منور باغ گلبرگہ میں ایک ادبی نشست منعقد ہوگی۔ اس ادبی نشست کے مہمان خصوصی ممتاز شاعر ڈاکٹر اکرم نقاش ہوں گے جبکہ جلسہ کی صدارت جناب فضل احمد تماپوری صدر تنظیم فرمائیں گے ۔شعری نشست میں محترمہ عصمہ عالم ، انجینئر اور انجینئر عبدالقدیر عرفان اپنا کلام سنائیں گے جبکہ ڈاکٹر ماجد داغی اس نشست کے مبصر ہوں گے ۔ بعد ازاں افسانوی نشست میں ڈاکٹر فریدہ تبسم اور جناب محمد صادق علی اپنے افسانے پیش کریں گے ۔ اس نشست کے تبصرہ نگار جناب امجد جاوید ہوں گے ۔ عہدیداران و ارکان تنظیم نے ادب دوست حضرات سے شرکت کی خواہش کی ہے ۔