فسطائیت کے خلاف وزیراعظم کو مکتوبات اختلاف رائے کا حق کے مترادف

   

آزاد جمہوری ہندوستان میں آواز اٹھانے پر مقدمات اوچھی حرکت ، سرکردہ شہریوں کا احساس
حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) ملک میں پھیل رہی فسطائیت کے خلاف وزیر اعظم کو مکتوب تحریرکرنا جرم نہیں ہے لیکن ملک سے غداری کے مقدمات کا اندراج اور ان مقدمات سے دستبرداری دراصل جذبات کا اظہارکرنے والوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ملک کی سرکردہ شخصیات پر ہجومی تشدد کا شکار ہونے والوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے پر ملک سے بغاوت کا مقدمہ متعصبانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔ ہندستان کی بااثر شخصیات کا ماننا ہے کہ ہندستان میں ملک سے بغاوت کے قوانین کا ہی کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ جمہوریت میں حکمراں سے اختلاف رکھنے کا ہر شہری کو اختیار ہے لیکن موجودہ دور میں اس طرح کے مقدمات کا نفاذ اورخوف کا ماحول پیدا کرنا دراصل اس بات کی کوشش ہے کہ کشمیر کے حالات پر کوئی آواز نہ اٹھائے اور کشمیر میں ہونے والے مظالم پر ہر کوئی خاموشی اختیار کرلے اور کوئی حکومت کے اقدام کے خلاف لب کشائی نہ کرے۔ ہندستان میں ہجومی تشدد کے واقعات پر بطور احتجاج وزیر اعظم کو مکتوب روانہ کرنے والے سرکردہ شہری جن میں صحافی ‘ سماجی کارکن ‘ جہدکار اور مصنفین شامل ہیں ان پر مقدمات درج کرنے کی مذموم حرکت کو دیگر سرکردہ شہریوں کی جانب سے اوچھی حرکت قرار دیتے ہوئے ایک اور مکتوب وزیر اعظم کو روانہ کیا گیا لیکن ملک کے سرکردہ شہریوں کا احساس ہے کہ گاندھی اور دیگر مجاہدین آزادی پر انگریزسامراجیت طبقہ نے جو مقدمات درج کئے تھے وہی مقدمات اب آزاد جمہوری ہندستان میں درج کئے جانے لگے ہیں جوکہ ہندستان کے جمہوری اصولوں کے مغائر ہے۔بتایاجاتا ہے کہ ہندستان کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے سرکردہ شہریوں نے کئی امور پر آواز اٹھائی ہے اور ان کے آواز اٹھانے کا مقصد حکومت سے بغاوت کرنا نہیں بلکہ صورتحال سے حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے حقائق کو منظر عام پر لانا ہے۔ ان اہم ترین سرکردہ شخصیتوں نے اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی اس کاروائی کا مقصد خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے کیونکہ اب جبکہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے دعوے کرتے ہوئے مواصلاتی نظام کی بحالی ہونے جا رہی ہے تو حقیقت کا انکشاف ہوگا اور ان حقائق کو منظر عام پر لانے والوں کے خلاف بھی اس طرح کی کاروائی ممکن بنائی جاسکتی ہے اس بات کا پیغام دینے کی کوشش ہے لیکن موجودہ آزاد جمہوری ہندستان میں ملک سے بغاوت یا حکومت سے بغاوت جیسے قوانین کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے کیونکہ دستور نے اختلاف رائے کا حق فراہم کیا ہے۔