عوام کو راحت، عہدیداروں نے سربراہی پر توجہ دی،پیاز کی قیمت اطمینان بخش
حیدرآباد۔/3 اگسٹ، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میں ترکاری کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے جس کے نتیجہ میں عوام کو بڑی راحت ملی ہے۔ سرکاری عہدیداروں کا ماننا ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کے رجحان کے باوجود تلنگانہ ترکاری کی قیمتوں کے بارے میں عوام کی استطاعت کے عین مطابق ہے۔ شہر میں واقع رعیتو بازاروں میں قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے عہدیدار اقدامات کررہے ہیں جس کے نتیجہ میں دیگر اشیائے ضروریہ کے مقابلہ میں عوام کو ترکاری کی خریداری میں کوئی خاص دشواری نہیں ہے۔ عوام کوکم قیمت پر اہم ترکاریاں دستیاب ہورہی ہیں جس کے نتیجہ میں ویجیٹرین خاندانوں نے اطمینان کی سانس لی۔ حالیہ بارش کے باوجود ترکاری کی سربراہی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ عہدیداروں نے رعیتو بازاروں میں معمول کے مطابق ترکاری کی سربراہی کو یقینی بنایا ہے حالانکہ موسلادھار بارش کے نتیجہ میں کئی اضلاع میں فصلوں کو بھاری نقصان ہوا۔ عام طور پر بارش کے بعد ترکاری کی قیمتوں میں اضافہ درج کیا جاتا ہے لیکن عہدیداروں کی کامیاب حکمت عملی کے نتیجہ میں گریٹر حیدرآباد کے عوام ترکاری کیلئے زائد قیمت ادا کرنے سے بچے ہوئے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قیمتوں میں معمولی فرق دیکھا گیا۔ بعض اشیاء جیسے پیاز، ٹماٹر، آلو، بیگن اور پھلی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ ونستھلی پورم رعیتو بازار کی اسٹیٹ آفیسر سواپنا نے بتایا کہ مارکٹ میں ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ کا کوئی رجحان نہیں ہے جبکہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں معمولی کمی آئی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں معمول کے مطابق سربراہی دیکھی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ روزانہ رعیتو بازار میں 70 تا 80 کنٹل ٹماٹر سربراہ کیا جاتا ہے جوکہ دیگر ترکاریوں کے مقابلہ میں سب سے زیادہ ہے اور ٹماٹر کی فروخت بھی دیگر ترکاریوں کے مقابلہ زیادہ رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اقسام کی پھلی اور گاجر کی غیر موسمی آمد کے نتیجہ میں قیمتوں میں معمولی اضافہ درج کیا گیا تھا کیونکہ سربراہی میں کمی واقع ہوئی لیکن یہ قیمت اب معمول پر آچکی ہے۔ ونستھلی پورم رعیتو بازار میں 12 کنٹل گاجر اور 5 تا6 کنٹل پھلی سربراہ کی جاتی ہے۔ جولائی کے آخری ہفتہ سے گاجر کی قیمت میں کمی ہوئی اور وہ 50 روپئے فی کیلو فروخت ہورہا ہے۔ مختلف اقسام کی پھلی کی قیمت بھی 30 تا 50 روپئے کے درمیان ہے۔ پیاز کی قیمت میں تبدیلی نہیں ہوئی جس کے نتیجہ میں گاہکوں نے اطمینان کی سانس لی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے پیاز کی قیمت تقریباً ایک ہی برقرار ہے۔ پیاز 20 تا 25 روپئے فی کیلو فروخت ہورہی ہے۔ جولائی کے آخری ہفتہ میں مرچ کی قیمت میں معمولی اضافہ ہوا اور 35 روپئے فی کیلو تھی جو اب قدرے بڑھ کر 40 روپئے ہوچکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مرچ کی قیمت 35 روپئے فی کیلو تک جاسکتی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگسٹ میں ترکاری کی سربراہی میں مزید اضافہ ہوگا۔