فضائی آلودگی ‘ حیدرآباد بھی دہلی سے زیادہ پیچھے نہیں

   

Ferty9 Clinic

ہوا کا معیار انسانی صحت کیلئے مضر ۔ آلودگی پر قابو پانے موثر اقدامات کی ضرورت

حیدرآباد 4 جنوری(سیاست نیوز) ایسا لگتا ہے کہ فضائی آلودگی کے معاملہ میں تلنگانہ کے دارالحکومت ’حیدرآباد‘ اور قومی دارالحکومت دہلی کے مابین مسابقت شروع ہوچکی ہے ۔ کئی برسوں سے دہلی میں ماحولیاتی آلودگی اور فضائی آلودگی پر قابو پانے متعدد اقدامات کئے گئے لیکن مجموعی طور پر یہ کوششیں رائیگاں ثابت ہورہی ہیں اس کے باوجود ملک کے دیگر شہر دہلی کی صورتحال سے سبق حاصل نہیں کر رہے ہیں ۔ حیدرآباد میں 2026 کے پہلے دن یعنی 1جنوری کو ائیر کوائیلیٹی انڈیکس330 سے زائد ریکارڈ کیاگیا جو کہ صحت انسانی کیلئے انتہائی مضر ہے۔شہر میں ماحولیاتی آلودگی پھیلانے ذمہ دار بڑی حد تک دونوں شہروں میں زیر استعمال گاڑیاں ہیں کیونکہ اگر گذشتہ چند یوم کے دوران AQI کا اتوار کے AQI سے تقابل کیا جائے تو اس میں کافی فرق پایا جارہا ہے ۔ 3جنوری یعنی ہفتہ کی شب حیدرآباد میں فضائی آلودگی کی جو پیمائش ہوئی تھی اس کے مطابق ہفتہ کو شہر میں ہواء کا معیار انتہائی ابتر رہا جبکہ اتوار کو اسی وقت ہوا کا معیار بہتر رہا ہے۔ ڈاکٹرس کا کہناہے کہ جس رفتار سے حیدرآباد میں فضائی آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی پھیپڑوں کے عوارض کا شکار ہیں تو وہ سادہ ہوا میں سانس لینے میں دشواری محسوس کریں گے۔ 300 اگر AQI پار کرتا ہے تو ڈاکٹرس کا یہ ماننا ہوتا ہے کہ 300 سے زائد AQI میں سانس لینا 30 سگریٹ پینے کے مماثل ہوتا ہے اسی لئے فضائی آلودگی سے محفوظ رہنے اقدامات ضروری ہیں۔ شہر د کو فضائی آلودگی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے حکومت بالخصوص پولیوشن کنٹرول بورڈ کو عوام میں شعور بیداری مہم چلانے کے ساتھ ماحول کو آلودہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ شہری آبادیوں میں آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کے علاوہ ایسی گھریلو صنعتیں جو ماحولیاتی آلودگی کے فروغ کا سبب بنتی ہیں ان کے خلاف بھی کاروائی کرکے انہیں شہر سے دور لیجانے اقدامات ناگزیر ہیں ۔ حکومت فوری اس طرح کے اقدامات نہیں کرتی ہے تو حیدرآباد اور دہلی میں جاری فضائی آلودگی کا یہ مقابلہ شدت اختیار کرسکتا ہے اور شہریان حیدرآباد کو بھی دہلی جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔3