کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی پارٹی قائدین کے ساتھ ٹیلی کانفرنس ، احتجاج کرنے کیلئے غور
حیدرآباد ۔ 6 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس حکومت کی جانب سے متعارف کردہ فلاحی اسکیمات اور دیگر پروگرامس کو کانگریس حکومت کی جانب سے منسوخ کرنے کے خلاف عوامی احتجاج اور قانونی لڑائی لڑنے کا بی آر ایس پارٹی نے فیصلہ کیا ہے۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر اور بی آر ایس کے رکن اسمبلی ٹی ہریش راؤ نے بی آر ایس کے ارکان اسمبلی سابق ارکان اسمبلی کے علاوہ پارٹی کے دیگر اہم قائدین کے ساتھ ٹیلی کانفرنس کا اہتمام کیا ہے اور کانگریس حکومت کے عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج شروع کرنے کیلئے تیار ہوجانے کا مشورہ دیا ہے۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد چیف منسٹر ریونت ریڈی بہترین خدمات انجام دیتے ہوئے اپنے نقوش چھوڑنے کی تیاری کررہے ہیں۔ اسی حصہ کے طور پر کے سی آر کٹ اسکیم کا نام تبدیل کرنے کے ساتھ کٹ کے بیاگ پر رہنے والی کے سی آر کی تصویر نکال دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 68 لاکھ ڈبل بیڈروم مکانات کی تعمیر کیلئے جو ٹنڈرس جاری کئے گئے ہیں انہیں منسوخ کرتے ہوئے ان کی جگہ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم پر عمل کرنے کا جائزہ لیا جارہا ہے جس سے بی آر ایس پارٹی متحرک ہوگئی ہے۔ حکومت کے ان فیصلوں کے خلاف عوامی تحریک شروع کرنے ضرور پڑنے پر قانونی لڑائی لڑنے کی بھی حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ کے ٹی آر اور ہریش راؤ نے پارٹی قائدین کو بتایا کہ سابق بی آر ایس حکومت کی جانب سے ترقیاتی و تعمیری کاموں کیلئے دی گئی منظوریوں کو کانگریس حکومت کی جانب سے منسوخ کیا جارہا ہے۔2
فنڈز کی اجرائی کے باوجود سڑکوں کی تعمیرات اور عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے کاموں کو روک دینے کی بھی شکایتیں وصول ہورہی ہیں۔ حکومت نے گروہا لکشمی اسکیم کو منسوخ کرتے ہوئے جی او جاری کیا ہے۔ استفادہ کنندگان کا انتخاب ہونے انہیں سرکاری طور پر دستاویزات حوالے کرنے کے باوجود حکومت کے اس فیصلے کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ بھیڑ بکریوں کی تقسیم دلت بندھو اسکیم کے منتخب امیدواروں کو فنڈز کی عدم اجرائی کے خلاف بی آر ایس پارٹی احتجاجی مہم شروع کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔2