فلاحی اسکیمات ٹھپ،تلنگانہ مالیاتی مستحکم ریاست سے مقروض بن گئی
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز)سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مالیاتی طور پر مستحکم ریاست کو کے سی آر نے مقروض ریاست میں تبدیل کردیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں تلنگانہ کا قرض 2 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ چکا ہے۔ برخلاف اس کے ریاست کی آمدنی کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ حکومت کا خزانہ خالی ہے اور تنخواہوں کی ادائیگی کے موقف میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ 108 سرویس ملازمین کی تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں۔ چیف منسٹر کے بے روزگار نوجوانوں کے ساتھ جو وعدے کئے تھے ان پر عمل آوری نہیں کی گئی اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات محض ایک خواب بن چکے ہیں۔ رعیتو بندھو اور کسانوں کے قرض معافی جیسی اسکیمات پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی۔ کسان قرض معافی کے منتظر ہیں۔ غریب طلبہ کیلئے کانگریس نے فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کا آغاز کیا تھا لیکن ٹی آر ایس نے اس اسکیم کو عملاً ختم کردیا ہے۔ آنگن واڑی کے ذریعہ بچوں کو دودھ اور صحت بخش غذائیں فراہم کی جاتی تھیں لیکن ٹی آر ایس حکومت میں اسے بند کردیا گیا ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فلاحی اسکیمات کو مسدود کرنا عوامی اور جمہوری حکومت کا طریقہ کار ہے؟ ۔ گزشتہ 9 ماہ سے سرپنچوں کو چیک پاور سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بلدی انتخابات کے سلسلہ میں حکومت کی بے قاعدگیوں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ گورنر نے نئے منظور شدہ میونسپل ایکٹ کو مختلف اعتراضات کے ساتھ واپس کردیا ہے۔ قانون میں کئی خامیاں موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کی حکمرانی میں دوراندیشی کا کوئی نام نہیں ہے اور عوام کے مسائل کی یکسوئی کے بجائے شخصی اور سیاسی ایجنڈہ کے تحت کے سی آر کام کررہے ہیں۔ پونالہ لکشمیا نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر کا تلنگانہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ کے سی آر آپ اگرچہ تلنگانہ سے تعلق نہیں رکھتے پھر بھی اگر تلنگانہ کی بھلائی کرتے ہیں تو ہم آپ کو سلام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ کے سی آر کا تلنگانہ سے تعلق نہیں ہے اسی لئے تلنگانہ سے ناانصافی کی جارہی ہے۔ کے سی آر نے 15 اگسٹ سے مثالی حکمرانی کا دعویٰ کیا تھا اس کا مطلب یہ ہوا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے مخالف عوام حکمرانی جاری تھی۔ کانگریس حکومت نے غریب عوام کے علاج کیلئے آروگیہ شری اسکیم کا آغاز کیا لیکن ٹی آر ایس نے ہاسپٹلس کو بقایا جات کی ادائیگی روک کر اسکیم کو مسدود کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا غریب عوام کو علاج سے محروم رکھنا عوامی حکمرانی ہے۔ کلیان لکشمی، شادی مبارک جیسی غریبوں کی اسکیمات پر عمل آوری روک دی گئی ہے۔ غریب خاندان ان اسکیمات کے فوائد کا انتظار کررہے ہیں۔ بے روزگار نوجوانوں کو بے روزگاری بھتہ دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن گزشتہ چھ ماہ سے نوجوانوں کو اس کا انتظار ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر حکومت کو مناسب سبق سکھائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سی بی آئی مقدمات کے خوف سے کے سی آر مرکز سے کچھ بھی حاصل کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ وہ نریندر مودی سے کہہ چکے ہیں کہ ریاست کو کچھ نہیں چاہیئے صرف آپ کی محبت کافی ہے۔ کے سی آر کی بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کی بی جے پی حکومت پردہ پوشی کررہی ہے۔
