فلاحی و سبسیڈی اسکیمات پر تلنگانہ میں سالانہ 58 ہزار کروڑ کا خرچ

   

لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں ریاست کی آمدنی میں خاطر خواہ کمی، گذشتہ 3 برسوں میں نئی اسکیمات میں اضافہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت نے کمزور معاشی موقف کے باوجود فلاحی اسکیمات اور حکومت کے سبسیڈی پروگراموں پر موثر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں چیف سکریٹری اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ فلاحی اسکیمات کے فنڈز کی اجرائی میں کوئی تاخیر نہ کی جائے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاستی حکومت اہم فلاحی اسکیمات اور سبسیڈی پر جملہ اخراجات کا 52 فیصد رقم خرچ کررہی ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق سالانہ 58 ہزار کروڑ روپئے فلاحی اسکیمات اور سبسیڈیز پر خرچ کئے جاتے ہیں جن میں ریتو بندھو، قرض معافی، آسرا پنشن، برقی سبسیڈی، اسکالر شپ، کلیان لکشمی، شادی مبارک، چاول پر سبسیڈی اور سود کی ادائیگی شامل ہیں۔ ریتو بندھو اسکیم کیلئے 12 ہزار کروڑ الاٹ کئے گئے جبکہ آسرا پنشن پر 9500کروڑ خرچ کئے جارہے ہیں۔ پنشن کے تحت بیواؤں، معذورین اور بے سہارا خواتین کے پنشن شامل ہیں۔ پے ریویژن کمیشن کی رپورٹ میں فلاحی اسکیمات پر بجٹ خرچ میں اضافہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گذشتہ 4 برسوں میں فلاحی اسکیمات پر خرچ میں بھاری اضافہ ہوا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کئی مرتبہ اعلان کیا تھا کہ تلنگانہ ان چند ریاستوں میں شامل ہے جو فلاحی اسکیمات پر زائد بجٹ خرچ کرتی ہے۔ پی آر سی رپورٹ کے مطابق فلاحی اسکیمات کیلئے بجٹ میں اضافہ سے حکومت کو وسائل تلاش کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے خاص طور پر جاریہ مالیاتی سال کورونا وبا، لاک ڈاؤن و آمدنی کے ذرائع میں کمی کے سبب سرکاری خزانہ کو خسارہ کا سامنا ہے۔ تشکیل تلنگانہ کے وقت 2014 میں سبسیڈی اسکیمات پر 15750 خرچ کئے جاتے تھے اسوقت ریتو بندھو اور ریتو بیمہ جیسی اسکیمات موجود نہیں تھیں۔ 2017-18 میں سالانہ ویلفیر اسکیمات پر خرچ 29000 کروڑ تھا جو 2018-19 میں بڑھ کر 42000 کروڑ ہوگیا۔ ریتو بندھو اور ریتو بیمہ اسکیمات متعارف کرنے کے بعد بجٹ میں اضافہ ہوگیا۔ مالیاتی اخراجات کے تحت سبسیڈیز پر خرچ کیا جانے والا بجٹ 31 فیصد سے بڑھ کر 52 فیصد ہوچکا ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ حکومت نے نہ صرف نئی اسکیمات متعارف کیں بلکہ کئی اسکیمات کیلئے استفادہ کنندگان کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ آسرا پنشن کے تحت کئی لاکھ نئے نام شامل کئے گئے۔ ٹی آر ایس حکومت نے 2018 اسمبلی اور 2019 لوک سبھا انتخابات کے موقع پر زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی کا اعلان کیا تھا جس پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت پر ہر سال سبسیڈی کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ حکومت زائد بوجھ سے نمٹنے کیلئے آمدنی اور وسائل میں اضافہ کے راستے تلاش کررہی ہے۔