فلاح و بہبود بجٹ معاملہ میں چیف منسٹر نے اسمبلی کو گمراہ کیا : محمد علی شبیر

   

حیدرآباد ۔ 9 اکٹوبر (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد سابق وزیر محمد علی شبیر نے کل اسمبلی میں چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کے بہبود کے معاملے میں کانگریس کے 10 سالہ دور حکومت اور ٹی آر ایس کے 7 سالہ دورحکومت کا تقابل کرنے کو مضحکہ خیز ،نامعقول اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ ایک پریس نوٹ میں محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر نے کانگریس کے 10 سالہ دورحکومت میں ان چاروں طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے صرف 21,663 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ ٹی آر ایس کے 7 سالہ دورحکومت میں 74,165 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ متحدہ ریاست میں معاشی صورتحال اور ریاست کے مجموعی بجٹ کے لحاظ سے ان طبقات کیلئے بجٹ مختص کئے جاتے تھے۔ تب ریاست پر صرف ایک لاکھ کروڑ روپئے کا قرض تھا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریاست کا رقبہ چھوٹا ہوگیا۔ ریاست کے مجموعی بجٹ میں اضافہ ہوگیا ساتھ ہی ریاست کا قرض بڑھ کر چار لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گیا۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے 7 سالہ دورحکومت کے دوران ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے 1.50 لاکھ کروڑ روپئے مختص کئے گئے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہیکہ مختص کردہ بجٹ میں نصف بجٹ بھی جاری نہیں کیا گیا۔ صرف 74,165 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں۔ اس پر چیف منسٹر نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ کانگریس اور ٹی آر ایس دورحکومت کا موازنہ کرتے ہوئے ریاست کے عوام بالخصوص ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ کانگریس کے قائد نے بتایا کہ ان 7 سال کے دوران اقلیتوں کی بہبود کیلئے 11,054.11 کروڑ روپئے کا بجٹ منظور کیا گیا۔ صرف 6644.26 کروڑ روپئے تقریباً 60 فیصد فنڈز جاری کئے گئے جس میں سے 5,000 کروڑ روپئے بھی برابر خرچ نہیں کئے گئے۔ ن