مقبوضہ بیت المقدس: مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 کے دوران قبضے میں لیے گئے علاقے خضیرہ میں ایک فدائی حملے کے نتیجے میں کم سے کم گیارہ صیہونی زخمی ہوگئے۔ قابض فوج کی فائرنگ سے حملہ آور فلسطینی شہید ہوگیا۔ زخمی اسرائیلی آباد کار وں مٰیں فوجی بھی شامل ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔ یہ دوہرا حملہ جمعرات کی شام کیا گیا جس میں مقبوضہ فلسطین کے اندرونی علاقے حضیرہ قصبے کے قریب ایک فلسطینی مزاحمت کار نے یہودی آباد کاروں پر اپنی گاڑی چڑھا دی جبکہ ایک دوسری کارروائی میں چاقو سے حملہ کیا گیا۔اسرائیلی ایمبولینس سرویس نے اطلاع دی ہے کہ فدائی آپریشن کے نتیجے میں 11 فلسطینی زخمی ہوئے، جب ایک تیز رفتار کار نے حضیرہ قصبے کے شمال مشرق میں آباد کاروں کے ایک گروپ کو ٹکر ماری۔ زخمیوں میں سے 3 کی حالت انتہائی تشویشناک، 4 معمولی زخمی اور چار درمیانے درجے کے زخمی ہیں۔ اسرائیلی چینل 13 کے مطابق حملہ آور نے اپنی گاڑی یہودی آباد کاروں اور پولیس اسرائیلی پولیس کی گاڑی پر چڑھا دی۔ اس کے بعد وہ گاڑی سے باہر نکلا اور پولیس اہلکاروں پر چاقو سے حملہ کیا۔حملہ آور فلسطینی جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تاہم جلد ہی قابض فوج نے اس کا پیچھا کرکے اسے گولیاں مار کر شہید کردیا۔