فلسطینیوں کو سزائے موت کے اسرائیلی قانون کی مذمت

   

اسلام آباد،2 اپریل (یواین آئی ) پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت سے متعلق قانون سازی پر تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے ۔ پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ سے جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور خطرناک اقدام ہے ۔بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیلی اقدامات تیزی سے بڑھتی کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں اور یہ پالیسی خطے کے استحکام کیلئے خطرہ ہے ۔ کہا گیا کہ فلسطینی قیدیوں کے حالات پر شدید تشویش ہے اور رپورٹس کے مطابق ان کے ساتھ تشدد، غیر انسانی سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی جیسے سنگین سلوک کے شواہد موجود ہیں۔وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور ان سے خطے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے ، اسرائیل کی امتیازی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی مخالفت جاری رکھی جائے گی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیایواین گیا کہ وہ فلسطین میں صورتحال کے بگاڑ کو روکنے مؤثر اقدامات کرے ۔خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز پر زوردیا گیا ۔

سزائے موت قانون کے خلاف فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے
رملہ 2 اپریل (یواین آئی )مقبوضہ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم میں سزائے موت قانون پر فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا ۔ فتح کی اپیل پر دکانیں، تعلیمی ادارے و سرکاری دفاتر بند رہے ۔ معمولاتِ زندگی متاثر ہو ئے ۔سینکڑوں افراد نے ریلی نکالی اور نعرے لگائے ، جبکہ نابلس، الخلیل و دیگر شہروں میں بھی احتجاجی ہوا۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اس قانون کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ کئی علاقوں میں بازار مکمل طور پر بند رہے ، جبکہ یروشلم کے قریب اسرائیلی فوجیوں نے زبردستی دکانیں کھولنے پر مجبور کیا۔