ریاض؍ قاہرہ: غزہ میں فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کیلئے آئندہ دنوں میں قاہرہ میں عرب لیگ کا ہنگامی سربراہ اجلاس منعقد کرنے کیلئے مشاورت کی جا رہی ہے۔ سربراہ اجلاس میں جبری ہجرت کو مسترد کرنے کیلئے ایک یکساں عرب فیصلہ اور موقف اپنایا جائے گا اور فلسطینیوں کی ان کی سرزمین سے بیدخلی روکنے کیلئے مطلوبہ قانونی اور بین الاقوامی اقدامات پر عرب ممالک کا اتفاق رائے باور کرایا جائے گا۔ سربراہ اجلاس میں فلسطینیوں کے ان کی سرزمین سے رخصت ہوئے بغیر غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے زیر بحث آئیں گے اور فائر بندی کی تکمیل اور کسی بھی خلاف ورزی کو روکنے کیلئے سپورٹ کا اظہار کیا جائے گا۔ اس حوالے سے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے فلسطینی مسئلے کے اصولوں کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچانے پر عرب دنیا کے اتفاق رائے کی ضرورت کو باور کرایا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ فلسطینی عوام کو اپنی زمین پر رہنے کا حق حاصل ہو اور ان سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہ چھینا جائے۔ابو الغیط نے جمعرات کو عرب لیگ کے جنرل سکریٹریٹ کے صدر دفتر میں فلسطینی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ڈاکٹر محمد مصطفی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر ابو الغیط کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر مطلوب یہ ہے کہ فائر بندی کو مضبوط بنایا جائے، فوری امداد کے داخلے پر کام کیا جائے اور فلسطینی آبادی کو بتدریج معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد کی جائے تا کہ غزہ کی پٹی کو نا قابل حیات بنانے کے اسرائیلی منصوبے ناکام بنا دیے جائیں۔
عرب لیگ کے ترجمان جمال رشدی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے حالیہ بیان میں غزہ کی پٹی سے فلسطینی آبادی کے رضاکارانہ خروج کی بات کرنا اسرائیلی منصوبوں کے اہداف کو ظاہر کرتا ہے۔ رشدی نے زور دیا کہ فلسطینی عوام رضاکارانہ یا جبری خروج کے نام پر ایک بار پھر المیے کو دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔