یروشلم: فلسطینی خاندانوں نے یہودی آباد کاروں کی طرف سے یروشلم سے ان کی بے دخلی میں تاخیر کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔رپورٹ کے مطابق یروشلم کے علاقے شیخ جراح کے 4 خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ ان کے انصاف ملنے اور اپنے گھروں اور اپنے وطن کے حق میں ان کے یقین پر منحصر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غیر منصفانہ معاہدے پر سر تسلیم خم کرنے کے بجائے وہ اپنی حالت زار کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بیداری پیدا کرنے کے لیے فلسطینی سڑکوں کا رخ کریں گے۔شہر میں ہونے والی پیشرفت پر قریبی نظر رکھنے والے اسرائیلی حقوق کے گروپ ار امیم کے مطابق اسرائیل کی سپریم کورٹ کی طرف سے گزشتہ ماہ پیش کی گئی تجویز سے انہیں محفوظ کرایہ دار بنادیا جاتا جس سے وہ کم از کم اگلے 15 سالوں کے لیے کسی بھی بے دخلی اور مسمار کیے جانے کے حکم کو روک دیا جاتا۔اس معاہدے سے یہ خاندان اسرائیلی عدالتوں میں اپنے کیس پر بحث جاری رکھنے کے قابل ہوتے تاہم انہیں کم از کم عارضی طور پر آباد کاروں کی جائیدادوں کی ملکیت کی تصدیق کرنے پر مجبور کیا جاتا جس سے خاندانوں کا مقدمہ آگے بڑھنے سے کمزور ہوسکتا ہے اور آباد کاروں کو کرایہ ادا کرنا پڑتا۔یہ چار خاندان یروشلم کے ان درجنوں خاندانوں میں شامل ہیں جنہیں یہودی آباد کار تنظیموں کی طرف سے بے دخلی کا خطرہ ہے۔آباد کار ایک اسرائیلی قانون کا استعمال کر رہے ہیں جو انہیں ان جائیدادوں کا دعویٰ کرنے کی اجازت دیتا ہے جو 1948 کی جنگ سے قبل یہودیوں کی ملکیت تھیں۔فلسطینی جنہوں نے ایک ہی تنازعہ میں گھر، جائیدادیں اور زمینیں کھو دی ہیں ان کو واپس لینے کا حق نہیں ہے۔