تل ابیب : ایک اسرائیلی حکومت کے عہدیدار نے خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کو بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو منگل کو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے تیار کی گئی اسپوٹنک وی ویکسین کے 5000 یونٹوں کی پہلی کھیپ فراہم کردی گئی ہے۔اسرائیلی اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی کا نمائندہ اردن کے راستے یہ کھیپ مغربی کنارے لائے گا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسرائیلی وزارت صحت نے اس کی درآمد کی منظوری دی ہے۔فلسطینی وزیر صحت نے فلسطینی علاقوں میں اسپوٹنک وی ویکسین کے غیر معمولی استعمال کی منظوری جاری کی تھی۔عالمی ادارہ صحت نے اسرائیل میں کورونا ویکسین کی غیر منصفانہ تقسیم کے باریس میں “خدشات” ظاہر کیے تھے کیونکہ اسرائیل نے اپنے زیرانتظام علاقوں میں جن 20 فی صد لوگوں کو کورونا ویکسین فراہم کی ہے ان میں فلسطینی شام نہیں ہیں۔فلسطینی علاقوں میں عالمی صحت کے دفتر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جیرالڈ راکنس شیب نے ‘ایسوسی ایٹ پریس’ کو بتایا کہ ہمیں فلسطینی علاقوں میں ویکسین کی غیرمتوازن تقسیم اور ویکسین تک یکساں رسائی کی عدم فراہمی کے خدشات کا ملاحظہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقصد تمام آبادی میں ویکسین کی یکساں فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔فلسطینی اتھارٹی نے ویکسین کی فراہمی کے معاملے میں فلسطینیوں سے امتیازی سلوک کرنے اور “نسل پرستی” کا الزام عائد کیا ہے لیکن رام اللہ اتھارٹی کی طرف سے اسرائیل کو ویکسین کے معاملے میں باقاعدہ درخواست پیش نہیں کی گئی تھی۔ اس سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کے پروگرام اور نجی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کے ذریعے خود ہی ویکسین کے حصول کی کوشش کرے گی۔