فلسطینی باشندہ کی موت پر اسرائیلی وزیر کا اظہار معذرت

,

   

یروشلم 31 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل کے وزیر دفاع نے اسرائیلی پولیس کی جانب سے ایک غیر مسلح اور علیل فلسطینی شخص کو بہیمانہ طور پر گولی مار کر ہلاک کئے جانے پر معذرت خواہی کی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ عیاد حالک نامی 32 سالہ فلسطینی شخص کو قدیم یروشلم میں گولی ماردی گئی تھی جس کے بعد اسرائیلی سکیوریٹی فورسیس کی جانب سیطاقت کے بے تحاشہ استعمال کی شکایات میں اضافہ ہوگیا تھا ۔ اسرائیل کے متبادل وزیر اعظم قرار دئے جانے والے وزیر دفاع بینی گانٹز اس واقعہ پر معذرت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میںیہ ریمارک کئے جب وہ وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ بنجامن نتن یاہو نے کابینی اجلاس میں اپنے افتتاحی ریمارکس میں اس واقعہ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا تھا ۔ گانٹز نے کہا کہ ہم عیاد حالک کو گولی مار کر ہلاک کئے جانے پر معذرت کرتے ہیں اور افراد خاندان کے غم میں شریک ہیں۔ انہوںنے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اس واقعہ کی تیزی سے تحقیقات کی جائیں گی اور نتائج اخذ کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حالک کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ وہ ایک عارضہ کا شکار تھا اور خصوصی توجہ کی ضرورت کے حامل طلبا کے اسکول کو جایا کرتا تھا ۔ ایک بیان میں اسرائیلی پولیس نے کہا کہ انہوں نے ایک مشتبہ شخص کو دیکھا تھا جس کے ہاتھ میں ایک مشتبہ شئے پستول جیسی نظر آ رہی تھی اس لئے پولیس نے اس پر فائرنگ کردی تھی ۔ پولیس ترجمان مکی روسنفیلڈ نے بعد ازاں کہا کہ مقتول کے قبضہ سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا ہے ۔ اسرائیلی میڈیا نے اطلاع دی کہ اس واقعہ میں ملوث عہدیداروں سے پوچھ تاچھ کی گئی ہے اور ان عہدیداروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے افراد خاندان سے اظہار تعزیت کیا ہے ۔ فلسطینی اور اسرائیلی حقوق انسانی گروپس کی جانب سے اسرائیلی فورسیس پر طاقت کے بے تحاشہ اور بیجا استعمال کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے ۔ بعض موقعوں پر بے ضرر اور غیر مسلح افراد کو بھی اسی طرح طاقت کے استعمال سے ہلاک کردیا جاتا ہے ۔