دمشق : شامی حکام نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ انہوں نے شام میں موجود اسلامی جہاد گروپ کے دو رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔اس سلسلے میں اسلامی جہاد کی القدس بریگیڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے ساتھیوں کو شام میں دو دن پہلے حراست میں لیا گیا۔ تاہم حراست میں لیے جانے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔اسلامی جہاد کے رہنما نے کہا ‘ہم توقع کرتے ہیں کہ معاملے کو برادرانہ جذبے کے تحت دیکھا جائے گا اور ہمارے ساتھیوں کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔شام کی وزارت داخلہ کے حکام نے ان حراستوں کی تصدیق کی ہے۔ تاہم اس سلسلے میں مزید کسی کارروائی کے بارے میں بتانے سیگریز کیا ہے۔اسلامی جہاد گروپ غزہ میں حماس کا اتحادی ہے اور دونوں نے اسرائیل پر 7 اکتوبر کے حملے میں بھی مشتکہ حکمت عملی اپنائی تھی اور اب بھی مشترکہ طور پر اسرائیل کو نشانے پر لیے ہوئے ہیں۔دوسری جانب شام کی نئی حکومت نے ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو محدود کر رکھا ہے۔ شام علاقائی سطح پر استحکام چاہتا ہے۔اسرائیل نے غزہ کے ساتھ ساتھ شام پر بھی بمباری جاری رکھی ہے۔ پچھلے ماہ ااسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے دمشق کے مضافات میں ایک عمارت پر حملہ کر کے اسلامی جہاد کمانڈ سنیٹر کو تباہ کیا ہے جبکہ اسلامی جہاد گروپ نے اس کی تصدیق کی ہے۔علاوہ ازیں اسرائیلی فورسز نے شام کی گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں اپنی مضبوطی کو مستحکم کیا ہے۔