تل ابیب، 21 اگست (یو این آئی) اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے تصور کو ‘مٹانے ’ کے لیے مغربی کنارے میں انتہائی متنازع اور غیر قانونی بستی کے قیام کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی ‘رائٹرز’ کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹرج کے بیان کے مطابق صیہونی ریاست نے گزشتہ روز اس زمین پر جسے فلسطینی اپنی ریاست کی طور پر دیکھتے ہیں، متنازع بستیوں بنانے کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی۔‘ای ون’ منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کردے گا اور اسے مشرقی بیت المقدس سے الگ کر دے گا جس کا اعلان گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر خزانہ نے کیا تھا اور بدھ کو وزارتِ دفاع کی منصوبہ بندی کمیشن نے اس کی باضابطہ توثیق کر دی۔اسرائیل کے کچھ مغربی اتحادی پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کررہے ہیں۔انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ سموٹرج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ‘ ای ون کے ذریعے ہم بالآخر ان وعدوں کو پورا کر رہے ہیں جو برسوں پہلے کیے گئے تھے ، فلسطینی ریاست کو نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ہٹایا جا رہا ہے ’۔دوسری جانب، فلسطینی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ روز اس اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ای۔ون بستی فلسطینی آبادیوں کو ایک دوسرے سے کاٹ دے گی اور دو ریاستی حل کے امکان کو سبوتاژ کرے گی۔جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے اس موقع پر کہا کہ بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور ‘ایک مذاکراتی دو ریاستی حل اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے میں رکاوٹ ڈالتی ہے ’۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ای۔ون منصوبے پر براہِ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اسرائیل کی کوئی حاکمیت نہیں چلے گی: حماس
اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے آج واضح کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے ایک ایک انچ پر قابض اسرائیل کی نہ کوئی حاکمیت ہے نہ کوئی شرعی اور قانونی حیثیت ہے ۔ مسجد اقصیٰ کو نذرِ آتش کرنے کے 56 سال پر جاری بیان میں حماس نے کہا کہ فاشسٹ صیہونی دشمن کی تمامت ر کارروائیاں اور حربے مسجد اقصیٰ کی اسلامی شناخت کو مٹانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ حماس نے عرب اور مسلمان ممالک سے بھرپور اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا تاکہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کو قابض اسرائیل کی سازشوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ہم دشمن کی سازشوں کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔