ریاض :23 نومبر ( ایجنسیز ) شرقِ اوسط میں امن و استحکام مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل پر منحصر ہے، یہ بات برطانیہ اور امریکہ میں سعودی عرب کے سابق سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے واشنگٹن کے ایک معروف خارجہ پالیسی فورم سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔نیشنل کونسل آن یو ایس-عرب ریلیشنز کے زیرِ اہتمام سالانہ عرب۔امریکی پالیسی ساز کانفرنس منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے سابق انٹیلی جنس سربراہ نے کہا، بار بار پیش آنے والی پریشانیوں نے خطے کو ”تزویری الجھن کی حالت” سے دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے کہا، شرقِ اوسط میں جنگیں ”تنازعات کے پیاسے خطے میں تقریباً معمول” بنتی جا رہی ہیں۔حماس کے سات اکتوبر کے حملوں پر اسرائیل کے ”تباہ کن ردِعمل” پر روشنی ڈالتے ہوئے شہزادہ ترکی نے کہا، اس کے نتیجے میں ہونے والی جنگ ”ایک ایسی سیاسی ناکامی کی نمائندگی کرتی ہے جو تکبر اور بے بنیاد عقائد سے پیدا ہوئی اور غزہ کے محصور لوگوں کے برداشت کردہ مصائب کو نظر انداز کا سبب بنی۔”انہوں نے مزید کہا کہ ان ”واہموں” کے باعث اسرائیل نے امن کے لیے عرب کوششوں کو غلط سمجھا۔”تاہم یہ صرف شرقِ اوسط ہی نہیں جو پریشانی اور غیر یقینی کا شکار ہے۔ آج ہم دنیا کے نقشے پر جہاں بھی دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہر کونے میں ایک بحران ہے اور یہ مسائل کا مناسب حل تلاش کرنے کے لیے کوئی واضح افق نہیں ہے،” سابق سفارت کار نے کہا۔انہوں نے کہا، تشدد کے تسلسل اور اس میں اضافہ کرنے میں تزویری الجھن کی اس حالت کا بہت زیادہ کردار ہے۔”یہ نئے تنازعات پیدا کرنے کا بھی سب بنتا ہے جس سے خطے کی صورتِ حال پیچیدہ ہو جاتی ہے جہاں ہر بحران سے ایک اور بحران نکل آتا ہے اور جہاں ہر مسئلہ دوسرے مسئلے سے منسلک ہوتا ہے۔
شرقِ اوسط میں پریشانی اور الجھن کا مطلب ہے تیز سیاسی تقسیم کی حالت، تنازعات سے متعلق مسائل اور مسابقتی عناصر کی بہتات جو صورتِ حال سے ایک خاص اور عارضی بنیادوں پر نمٹتے ہیں۔