ریاض ؍ لزبن ؍ دوحہ ؍ انقرہ ۔ 24 فبروری (ایجنسیز) سعودی عرب اور متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ، عرب لیگ کے سکریٹری جنرل اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے حال ہی میں اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ان فیصلوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے جن کے ذریعے مغربی کنارے پر اسرائیلی غیر قانونی تسلط میں بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب، برازیل، فرانس، ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، انڈونیشیا، آئرلینڈ، مصر، اردن، لکسمبرگ، ناروے، ریاستِ فلسطین، پرتگال، قطر، سلووینیا، اسپین، سویڈن اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ و اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہان نے ان اسرائیلی فیصلوں کو مسترد کیا جو مغربی کنارے پر غیر قانونی قبضے کو وسعت دیتے ہیں۔ 19 ممالک کے وزرائے خارجہ نے فلسطینی اراضی کو اسرائیل کی نام نہاد “سرکاری اراضی” قرار دینے، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر میں تیزی لانے اور اسرائیلی انتظامیہ کے پنجے مضبوط کرنے جیسی تبدیلیوں کی مذمت کی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ غیر قانونی بستیاں اور ان کے استحکام کیلئے کیے گئے فیصلے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کی 2024 کی مشاورتی رائے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلے زمینی حقیقت بدلنے اور نا جائز الحاق کی طرف بڑھنے کا واضح راستہ ہیں، جو خطے میں امن و استحکام کی کوششوں بشمول غزہ سے متعلق 20 نکاتی منصوبے کو سبوتاڑ کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل سے ان فیصلوں کی فوری واپسی اور مقبوضہ فلسطینی زمین کی قانونی و انتظامی حیثیت تبدیل کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔یہ فیصلے اسرائیلی آباد کاری کی پالیسی میں بے مثال تیزی اور E1 منصوبے کی منظوری کے بعد سامنے آئے ہیں، جو فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل پر براہ راست حملہ ہیں۔ وزرائے خارجہ نے 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی بیت المقدس کی آبادیاتی ساخت اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے الحاق کی کسی بھی شکل کی مخالفت کی۔
مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر، وزراء نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد کا خاتمہ کرے اور ذمہ داروں کا احتساب کرے۔ انہوں نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور جبری بے دخلی کی پالیسیوں کے خلاف بین الاقوامی قانون کے مطابق ٹھوس اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔بیان میں بیت المقدس اور اس سے ملحقہ مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا اور اس سلسلے میں ہاشمی (اردن) سرپرستی کے خصوصی کردار کو تسلیم کیا گیا۔ رمضان المبارک کے تناظر میں، بیت المقدس کی حیثیت کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی جو علاقائی استحکام کیلئے خطرہ ہیں۔