فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا قانون اسرائیلی پارلیمنٹ میں منظور

, ,

   

سزا میں کسی قسم کی معافی یا کمی کی گنجائش نہیں ہوگی ۔ اندرون 90 دن سزا پر عمل درآمد لازم

مقبوضہ بیت المقدس 31 مارچ:(ایجنسیز) قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ نے فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت سے متعلق ایک متنازع قانون کو حتمی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔دنیا معلومات رپورٹس کے مطابق اس قانون کو کنیسٹ کی جنرل اسمبلی میں منظور کیا گیا، جہاں اس کے حق میں 62 جبکہ مخالفت میں 48 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ قانون کنیسٹ کی رکن لیمور سون ہارمیلح کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جبکہ اس کی قیادت سخت گیر وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کر رہے تھے، جو ماضی میں بھی فلسطینی قیدیوں کے خلاف سخت پالیسیوں کے حامی رہے ہیں۔ قانون کے مطابق ایسے فلسطینی افراد کو سزائے موت دی جا سکے گی جن پر ایسے حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہو جن میں اسرائیلی ہلاکتیں ہوئی ہوں۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ سزا میں کسی قسم کی معافی یا کمی کی گنجائش نہیں ہوگی اور سزا سنانے کے بعد 90 دن کے اندر اس پر عمل درآمد لازم ہوگا۔ کنیسٹ کی قومی سکیورٹی کمیٹی نے اس قانون کے مسودے کو پہلے ہی منظور کرلیا تھا اور قانون سازی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ہزاروں اعتراضات کو مسترد کر دیا گیا، جسے ناقدین نے غیر جمہوری عمل قرار دیا ہے۔قانون کے تحت مغربی کنارے اور اسرائیل کے اندرونی علاقوں کے لیے الگ الگ طریقہ کار رکھا گیا ہے، جبکہ فوجی عدالتوں کو مخصوص حالات میں عمر قید کی سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور کئی یورپی ممالک نے اس قانون پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر انسانی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام خطے میں امتیازی نظام کو مزید مضبوط کرے گا اور اسے جنگی جرم کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔