یو اے ای کی تقلید نہیں کی جاسکتی: وزیرخارجہ پرنس فیصل
برلن: سعودی عرب نے آج کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی تقلید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا تاوقتیکہ یہودی مملکت کا فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدہ طئے نہیں ہوجاتا۔ سعودی وزیرخارجہ پرنس فیصل بن فرحان نے دورہ برلن کے موقع پر میڈیا کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں مثبت پیشرفت کیلئے شرط ہیکہ فلسطینیوں کے ساتھ امن بین الاقوامی معاہدوں کی اساس پر قائم ہوجائے۔ جیسے ہی یہ کام کی تکمیل ہوجائے، تمام دیگر باتیں ممکن ہے۔ گزشتہ ہفتے اسرائیل ۔ یو اے ای غیرمتوقع معاملت اپنی نوعیت کا محض دوسرا معاہدہ ہے جو اسرائیل نے کسی عرب ملک کے ساتھ طئے کیا ہے۔ اس سے قبل مصر اور اردن کے ساتھ یہودی مملکت کے سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے۔ یو اے ای کے ساتھ معاملت کی وجہ سے ایسے امکانات پیدا ہورہے ہیں کہ اسرائیل دیگر موافق مغربی کلیدی مملکتوں کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے معاہدے کرے گا۔ تاحال سعودی عرب جو عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، اس نے یو اے ای ۔ اسرائیل معاملت پر معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن مقامی عہدیداروں نے اشارہ دیا ہیکہ ریاض حکومت امریکی دباؤ کے باوجود ایسا امکان نہیں کہ اپنے بڑے علاقائی حلیف کے نقش قدم پر فوری چل پڑے گی۔ پرنس فیصل نے اپنے جرمن ہم منصب ہیکوماس کے ساتھ نیوز کانفرنس میں اسرائیل پر تنقید کا اعادہ کیا اور کہا کہ مغربی کنارہ میں نوآبادیات کی تعمیر اور اس علاقہ کو ضم کرلینے کی یکطرفہ پالیسیاں علاقائی برادری کیلئے ناقابل قبول ہیں کیونکہ یہ ناجائز اور دو مملکتی حل کیلئے نقصاندہ تبدیلی ہے۔ یو اے ای کے ساتھ تاریخی معاملت کے حصہ کے طور پر اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارہ علاقہ کے الحاق کو معطل کرنے سے اتفاق کرلیا حالانکہ وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کا کہنا ہیکہ یہ منصوبہ طویل مدت کیلئے برفدان میں نہیں رکھا گیا ہے۔ فلسطینیوں نے اسرائیل ۔ یو اے ای معاملت پر احتجاج کرتے ہوئے اسے عرب دنیا کے ایک بڑے رکن کی دغابازی قرار دیا۔ ابھی تک عرب دنیا کا عمومی موقف رہا ہیکہ اسرائیل کے ساتھ نارمل روابط اسی وقت ممکن ہے جب فلسطینیوں کے ساتھ تنازعہ حل ہوجائے۔