فلسطین میں قیام امن کیلئے امریکہ بڑی رکاوٹ : روس

   

ماسکو : روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاہارووا نے کہا کہ امریکہ نے حالیہ برسوں میں مسئلہ فلسطین کے حوالے سے امن عمل کو غصب کیا ہے اور اس مسئلے کے حوالے سے بین الاقوامی قانونی بنیادوں کو زائل کیا ہے۔ماریہ زاہارووا نے دارالحکومت ماسکو میں منعقدہ ہفتہ وار پریس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے اسرائیل سمیت مشرق وسطیٰ کے دورے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیا۔زہارووا نے توجہ مبذول کرائی ہے کہ ہم نے غزہ کی پٹی میں بحران کے آغاز کے بعد سے ابتک بین الاقوامی پلیٹ فارموں اور دو طرفہ ملاقاتوں میں طویل مدتی جنگ بندی قائم کرنے اور غزہ کے عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کرنے کی ضرورت کا بارہا اظہار کیا ہے۔زاہارووا نے کہا کہ “خطے میں رونما ہونے والے المناک واقعات ایک بار پھر واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ تنازعات کے علاقے میں اس وقت تک مستقل امن کا حصول ممکن نہیں ہو گا جب تک مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے حل کے لیے سیاسی افق کا واضح طور پر تعین نہیں کیا جاتا۔مشرق وسطیٰ میں امریکی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے زاہارووا نے کہا، “امریکی نمائندے تمسخر نہ طریقے سے دو ریاستی حل سمیت فلسطین۔ اسرائیل تنازعہ کے حل کی بنیادوں سے وابستہ ہیں، انہوں نے گزشتہ چند سالوں میں امن عمل اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے بین الاقوامی قانونی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ امریکہ کی ان ناکام پالیسیوں کے نتیجے مشرق وسطیٰ میں ایک غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔