فلسطین کے دوریاستی حل کے حق میں ووٹنگ مؤخر

   

ٹورنٹو: کینیڈا کی پارلیمان میں مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے حق میں ووٹنگ پیر کے روز اس وقت اچانک مؤخر کرنا پڑ گئی جب پارلیمان میں کئی ارکان کی طرف سے اس کی زبان کے معاملے کو ایشو بنایا گیا اور کہا گیا کہ وہ اس پر ابھی مزید بحث کرنا چاہتے ہیں۔ یہ مطالبہ حکمران لبرل جماعت کے ارکان کے درمیان اس مسئلے پر اختلاف کی وجہ سے پیش آیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ قرار داد بائیں بازو کے خیالات کی حامی ‘این ڈی پی’ مگر پارلیمان میں نسبتا چھوٹی جماعت کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔بائیں بازو کی یہ جماعت جسٹن ٹروڈو کی لبرل خیالات کی حامل جماعت جسٹن ٹروڈو کی حامی ہے اور ان کے اقتدار میں ان کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔ مگر اس معاملے پر چاہتی ہے کہ حکومت مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے حق میں قرار داد منظور کرائے۔ ‘این ڈی پی’ جسٹن ٹروڈو کی حکومت کو غزہ میں اسرائیلی جنگ کے بارے میں موثر کردار ادا نہ کرسکنے میں ناکام دیکھتی ہے۔واضح رہے چند دن پہلے ہی کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کو غیر مہلک ہتھیاروں کی فراہمی جنوری سے روک رکھی ہے۔ تاہم کینیڈا نے غزہ میں اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت میں کمی نہیں کی ہے۔پیر کے روز حکمران جماعت اور اس کی حمایت کرنے والی بائیں بازو کی جماعت نے پس پردہ باہمی تبادلہ خیال بھی کیا۔ جس میں قرار داد کے الفاظ کو اس بات پر چھوڑ دیا ک گیا کہ یہ بین الاقوامی برادری پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ دو رہاستی حل کے بارے میں مطالبہ کرے۔ ابتدائی طور پر قرار داد میں مطالبہ کیا گیا تھا کینیڈا دو ریاستی حل کو اپنے سرکاری موقف کے طور پر اختیار کرے۔ اسرائیل کے ساتھ ہر طرح کا فوجی و تجارتی لین دین بندکیا جائے۔لیکن گروپ سیون میں سے کسی بھی ملک نے باقاعدہ طور پر اسے اختیار نہیں کیا ہے۔ مگر حکمران جماعت کے ارکان میں سے بعض کے علاوہ حزب اختلاف کے ارکان نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ ابھی اس قرار داد پر بحث کرنا چاہتے ییں۔ کیونکہ یہ تبدیل شدہ الفاظ کی اطلاع انہیں پہلے سے نہیں تھی۔ اس لیے ووٹنگ کو موخر کیا جائیاور انہیں اس پر مزید غور اور بحث کے لئے وقت دیا جائے۔ اس موقف کے سامنے آتے ہی ووٹنگ کو موخر کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ دوبارہ کب ووٹنگ کرائی جائے گی۔