فلسطین ۔اسرائیل تنازعہ کا حل دو ریاستی تصفیہ :بحرین

   

منامہ ۔ بحرین نے کہا ہے کہ اسرائیل۔ فلسطین تنازعہ کا تصفیہ دو ریاستی حل پر مبنی ہونا چاہیے۔بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہ بحرین کا ویژن امن اور استحکام کے فروغ اور مشرقِ وسطی کے خطے میں ایک منصفانہ اور جامع امن کے قیام کے لیے اسرائیلی ، فلسطینی تنازعہ کے دو ریاستی حل کی ضرورت پر زوردیتا ہے اور یہی ایک راستہ ہے۔ عبداللطیف الزیانی نے گذشتہ ہفتہ اسرائیل سے امن معاہدے پر دستخط کے بعد پہلی مرتبہ دارالحکومت منامہ میں بحرینی میڈیا کے ایک گروپ سے ملاقات کی ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق انھوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ امن کی حمایت میں اعلامیہ بحرین کا ایک اہم قدم ہے اور یہ کسی کے خلاف نہیں۔متعدد عرب ممالک میں اس وقت المناک صورت حال ہے اور یہ اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کے ازالے کے لیے ایک ایسی نئی حکمت عملی اختیار کی جائے جس سے خطے میں استحکام ، امن اور سلامتی کی بحالی میں مدد ملے اور لوگوں کو ایک بہتر مستقبل کی امید فراہم ہو۔یاد رہے کہ وائٹ ہاؤس میں 15 ستمبر کو متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔بحرینی وزیر خارجہ عبداللطیف الزیانی اور امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کے ساتھ الگ الگ امن معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ان کے علاوہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ثالث کے طور پرمعاہدہ ابراہیم پر دستخط کیے تھے اور اس امید کا اظہار کیا تھا کہ مزید عرب ممالک بھی بحرین اور امارات کی پیروی کریں گے۔