امراوتی: ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو بڑی راحت دیتے ہوئے، آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے چہارشنبہ کو ان کیخلاف انتخابی ضابطہ کی خلاف ورزی کا مقدمہ خارج کردیا۔ اداکار کی درخواست پر ہائی کورٹ نے نندیال ٹاؤن پولیس کی طرف سے درج ایف آئی آر کو مسترد کر دیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نے مئی میں اسمبلی انتخابات کے دوران انتخابی ضابطہ کی خلاف ورزی کی تھی۔ اداکار 11 مئی کو نندیال کے ایم ایل اے اور ان کے دوست سلپا روی کے گھر گئے تھے، جو دوبارہ انتخاب کے خواہاں تھے۔ چونکہ ریٹرننگ آفیسر سے پیشگی اجازت نہیں لی گئی تھی، اس لیے ان کے اور اس وقت کے ایم ایل اے اور وائی ایس آر کانگریس امیدوار کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اللو ارجن انتخابی مہم کے آخری دن اپنی حمایت ظاہر کرنے کے لیے اس وقت کے ایم ایل اے کے گھر گئے تھے۔ اللو ارجن کے دورے کے بارے میں معلوم ہونے پر ان کے مداحوں کی بڑی تعداد اس وقت کے ایم ایل اے کے گھر کے باہر انہیں دیکھنے کے لیے جمع ہوگئی۔ایک مقامی سرکاری اہلکار نے اداکار کے خلاف ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن میں ایک سرکاری ملازم کے ذریعہ جاری کردہ حکم کی نافرمانی پر شکایت درج کرائی۔ چونکہ انتخابی ضابطہ کی دفعہ 144 اور اے پی پولیس ایکٹ کی دفعہ 31 نافذ تھی، اس لیے اداکار اور وائی ایس آر سی پی لیڈر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس واقعہ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے انتخابی ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد میں ناکامی پر اس وقت کے نندیال ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ رگھویر ریڈی کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔پولنگ پینل نے آندھرا پردیش کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس سے ایس پی کے خلاف الزامات دائر کرنے کو کہا تھا۔ اس نے ایس پی اور دو دیگر کے خلاف محکمانہ انکوائری کا بھی حکم دیا۔اللو ارجن نے ہائی کورٹ میں درخواست کی تھی کہ ان کے خلاف مقدمہ کو منسوخ کیا جائے۔ 25 اکتوبر کو ایک عبوری حکم میں عدالت نے ہدایت کی تھی کہ 6 نومبر تک ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کی جائے۔