حیدرآباد۔/29 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلگو ریاستوں میں تلگودیشم پارٹی کی رکنیت سازی مہم جاری ہے۔ پارٹی کے ارکان اسمبلی اور سینئر قائدین تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ تلنگانہ میں تلگودیشم کے احیاء کی مساعی کرنے والے چندرا بابو نائیڈو کیلئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ فلم اسٹار اور سابق وزیر بابو موہن نے پارٹی کی رکنیت حاصل کرلی۔ تلنگانہ اندول اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بابو موہن نے پارٹی کی رکنیت حاصل کرتے ہوئے سوشیل میڈیا میں رکنیت کارڈ کی تصویر جاری کی۔ حالیہ عرصہ میں جبکہ تلگودیشم کے کئی سینئر قائدین نے بی آر ایس اور کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی بابو موہن کا رکنیت حاصل کرنا گھر واپسی کی طرح ہے۔ بابو موہن نے تلگودیشم سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا۔ 1999 میں اندول اسمبلی حلقہ سے منتخب ہونے کے بعد انہیں کابینہ میں شامل کیا گیا۔ 2004 اور2014 کے انتخابات میں انہوں نے بی آر ایس کے ٹکٹ پر اندول سے کامیابی حاصل کی تھی۔ 2018 میں ٹکٹ نہ ملنے پر وہ بی جے پی میں شامل ہوگئے اور اسمبلی چناؤ میں بی آر ایس امیدوار کرانتی کرن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔2023 میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر مقابلہ کیا لیکن دامودھر راج نرسمہا کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ بابو موہن نے 7 فروری 2023 کو بی جے پی سے استعفی دے کر کے اے پال کی پرجا شانتی پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے اچانک کے اے پال کا ساتھ چھوڑ کر دوبارہ تلگودیشم میں واپسی کرلی ہے۔ بابو موہن نے اگسٹ میں تلگودیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی تھی اسی وقت یہ قیاس آرائیاں کی گئیں کہ بابو موہن گھر واپسی کریں گے۔1
اسی دوران چندرا بابو نائیڈو نے دونوں تلگو ریاستوں میں پارٹی کی رکنیت سازی مہم کو کامیاب بنانے کی سینئر قائدین کو ہدایت دی ہے۔1