آر ٹی آئی کمشنرس کے تقرر میں تاخیر پر ہائی کورٹ کی برہمی
حیدرآباد۔/5 جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے فلم ڈائرکٹر این شنکر کو حکومت کی جانب سے 5 ایکر اراضی کے الاٹمنٹ کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔ فلم ڈائرکٹر کو شنکر پلی کے علاقہ میں 5 لاکھ روپئے کے عوض 5 ایکر قیمتی اراضی حکومت نے الاٹ کی ہے۔ کریم نگر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے الاٹمنٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور کہا کہ کروڑہا روپئے مالیت کی اراضی محض پانچ لاکھ روپئے میں الاٹ کی گئی ہے۔ شنکر کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ طویل عرصہ سے خدمات کے پیش نظر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ فریقین کی سماعت مکمل کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے 7 جولائی کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا۔ اسی دوران ایک اور معاملہ میں ہائی کورٹ نے میاں پور میں واقع سی آر پی ایف کو الاٹ کردہ اراضی کے مکینوں کو بیدخل کرنے سے روکنے کی ہدایت دی ہے۔ میاں پور میں 40 ایکر اراضی سی آر پی ایف کو الاٹ کی گئی۔ گذشتہ 40 برسوں سے غریب خاندان اس اراضی پر بستے ہیں۔ انہیں بیدخل کرنے کے خلاف مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی جس پر عدالت نے 23 اگسٹ تک حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے آر ٹی آئی کمشنر کے تقرر میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کیا۔ فورم فار گڈ گورننس نے اس سلسلہ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل کرتے ہوئے شکایت کی کہ طویل عرصہ سے آر ٹی آئی کمشنرس کے تقررات نہیں کئے گئے۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ آر ٹی آئی کمشنرس کے تقرر کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اور 4 اگسٹ تک درخواستیں داخل کرنے کی تاریخ مقرر کی گئی۔ عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 23 اگسٹ کو مقرر کی ہے۔ر