ریاض۔19 (ایس پی اے ): فلپائن کی جڑواں بہنیں کلیا این اور موریس این مِسا سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کے تحت ممکنہ علیحدگی کے آپریشن کے لیے ریاض پہنچ گئیں ۔ فلپائنی جڑواں بہنیں کلیا این اور موریس این مِسا ریاض پہنچی جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ جانچا جا سکے کہ انہیں علیحدہ کرنے کا آپریشن ممکن ہے یا نہیں۔ یہ اقدام سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کے تحت کیا جا رہا ہے، جیسا کہ سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کیا۔ ان جڑواں بہنوں کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچنے پر کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرنز اسپتال، وزارت نیشنل گارڈ منتقل کیا گیا۔ کلیا این اور موریس این اپنے والدین کے ہمراہ منیلا سے سعودی عرب آئیں، یہ تمام انتظامات شاہی ہدایات کے تحت کیے گئے۔ یہ فلپائن سے تعلق رکھنے والے تیسرے جڑواں بچے ہیں جنہیں اس سعودی پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔اس پروگرام کی طبی اور جراحی ٹیم کی قیادت ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کر رہے ہیں، جو شاہی عدالت کے مشیر اور سعودی امدادی ادارے کے ایس ریلیف کے ڈائریکٹر جنرل بھی ہیں۔جڑواں بچیوں کے والدین نے شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ان کے بچوں کو گرمجوشی سے خوش آمدید کہا اور مکمل طبی نگہداشت فراہم کی۔کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرنز اسپتال میں اب ان جڑواں بچیوں کا طبی معائنہ جاری ہے تاکہ علیحدگی کی ممکنہ سرجری کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔ایک انٹرویو میں ان کی والدہ مارِیسیل مِسا نے کہا کہ جب سے ان کی بچیاں سات سال قبل پیدا ہوئیں، وہ تب سے دعا کر رہی تھیں کہ کوئی ان کی مدد کرے تاکہ وہ ایک معمول کی زندگی گزار سکیں۔ مارِیسیل، جو اپنے شوہر کے ساتھ لوبانگ آئی لینڈ (مینڈورو اورینٹل، فلپائن) میں ایک چھوٹی سی دکان چلاتی ہیں، مہنگے آپریشن کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھیں۔ ان کی دعائیں اس وقت پوری ہوئیں جب سعودی سفارتخانے، منیلا سے ایک کال آئی کہ مملکت ان کی مدد کرنا چاہتی ہے۔