فلپائن کو چاول کی برآمدات، اتم کمار ریڈی اور ہریش راؤ میں گرما گرم مباحث

   

متنازعہ شخص کو مشیر مقرر کرنے پر ہریش راؤ کا اعتراض، درمیانی افراد کے بغیر برآمدات، حکومت کا دعویٰ
حیدرآباد ۔23 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں فلپائن کو چاول کی برآمدات مبینہ طور پر بے قاعدگیوں کے مسئلہ پر حکومت اور بی آر ایس ارکان کے درمیان گرماگرم مباحث ہوئے۔ بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ فلپائن کو چاول کی برآمدات ایک بڑا اسکام ہے۔ تاہم وزیر سیول سپلائیز اتم کمار ریڈی نے الزامات کی تردید کی۔ ہریش راؤ نے وقفہ سوالات کے دوران فلپائن کو چاول کی برآمدات کی تفصیلات طلب کی اور اس سلسلہ میں پریم چند گارگ کو مشیر مقرر کرنے پر سوال اٹھائے ۔ پریم چند گارگ کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور دیگر مرکزی ایجنسیوں کے مقدمات زیر دوران ہیں۔ ہریش راؤ نے کہا کہ چاول کی برآمدات کے نام پر اسکام ہوا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ کی جانچ کے لئے ایوان کی کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ اتم کمار ریڈی نے وضاحت کی کہ تلنگانہ عالمی سطح پر چاول کی مارکٹ بن چکا ہے۔ حکومت نے کسی درمیانی شخص کے رول کے بغیر چاول کی بر آمدات کیلئے فلپائن حکومت سے راست طور پر معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے اور اس میں اسکام کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ ربیع سیزن کے دوران کسانوں کی پیداوار پر اقل ترین امدادی قیمت ادا کی جائے گی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کاکناڈا پورٹ پر 7500 میٹرک ٹن چاول کو نقصان پہنچا۔ اتم کمار ریڈی اور ہریش راؤ کے درمیان الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا اور ہریش راؤ نے چاول کی برآمدات میں اسکام کا ثبوت پیش کرنے کا چیلنج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کے ادارہ سے برآمدات کے بجائے فلپائن کے ایک خانگی ادارہ کے ذریعہ برآمدات کی جارہی ہے۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ ہریش راؤ جب کسی عہدیدار کو کوئی سفارش کرتے ہیں اور اس پر عمل نہ ہوں تو فوری اسکام کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی درمیانی شخص کے بغیر حکومت راست طور پر چاول روانہ کر رہی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ پریم چند گارگ کے خلاف کئی الزامات اور مقدمات ہیں ، باوجود اس کے حکومت ان کے ذریعہ برآمدات پر عمل پیرا ہے۔ وزیر سیول سپلائیز کے جواب سے غیر مطمئن بی آر ایس ارکان نے ایوان میں اپنا احتجاج درج کرایا۔1