اطراف کے علاقوں میںٹریفک کے مسائل ۔ عوام کو گہما گہمی کی صورتحال کا سامنا
حیدرآباد۔ فلک نما برج سے متصل برج کی تعمیر کے لئے فلک نما ریل اوور برج کو 6ماہ کے لئے بند کرتے ہوئے راہگیروں کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں لیکن جن متبادل راستوں کو اختیار کرنے کے لئے رہنمائی کی جا رہی ہے ان متبادل راستوں کو بہتر بنانے اور ان راستوں پر ٹریفک نظام کو درست کو کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کے سبب شہریو ںکو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ فلک نما ریلوے برج کو بند کئے جانے کے ساتھی ہی انجن باؤلی سے وٹے پلی ‘ ورم گڈہ ‘ بندلہ گوڑہ سڑک پر ٹریفک میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہاہے مگر وٹے پلی اور بی بی کا چشمہ علاقہ میں سڑک کی تعمیر کے کام جاری رہنے کے سبب اس سڑک پر کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام رہنے لگی ہے۔ اسی طرح ولک نما ریلوے ٹریک کی دوسری جانب پہنچنے کیلئے دوسرا راستہ اپوگوڑہ سے ہے جو کہ لال دروازہ یا جنگم میٹ سے ہوکر گذرتا ہے لیکن چھاؤنی غلام مرتضیٰ کے پاس پائپ لائن کی تنصیب کے سلسلہ میں کی گئی کھدائی کے سبب راہگیروں کو اس علاقہ کی سڑک کے استعمال میں بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ورم گڈہ اور وٹے پلی کے علاوہ اطراف کے علاقوں کے عوام کی جانب سے محکمہ پولیس بالخصوص ٹریفک پولیس سے اس بات کی خواہش کی جا رہی ہے کہ وہ اس سڑک پر آئندہ 6 ماہ کے لئے ٹریفک کی آمد و رفت میں ہونے والی مشکلات اور ٹریفک جام سے اس سڑک کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کو یقینی بنائیں کیونکہ اچانک ٹریفک بڑھ جانے کے سبب صورتحال انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور بڑی گاڑیاں جو اس علاقہ سے نہیں گذرتی تھی وہ اب یہاں سے گذرنے لگی ہیں تو شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور مقامی عوام کو بھی تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اسی لئے اگر محکمہ ٹریفک پولیس کی جانب سے اس سڑک پر ٹریفک نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو مقامی عوام اور راہگیروں کو درپیش مشکلات کافی حد تک آسان ہوجائیں گی۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ پولیس کی جانب سے فلک نما برج کو راہگیروں کے لئے بند کرنے سے پہلے جن متبادل راستوں کی نشاندہی کی گئی تھی ان راستوں پر کوئی ترقیاتی کام جاری نہیں تھے لیکن اچانک دونوں متبادل راستوں پر بھی مختلف محکمہ جات کی جانب سے ترقیاتی کاموں کے آغاز کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے اور مقامی عوام اچانک ٹریفک میں ہونے والے اضافہ سے کافی پریشان ہیں۔