تکمیل میں تاخیر سے ٹریفک مسائل ۔ ورم گڈہ ریل اوور برج کو بھی جلد مکمل کرنا ضروری
حیدرآباد29۔اکٹوبر(سیاست نیوز ) فلک نما برج کے دوسری جانب زیر تعمیر برج کی عاجلانہ تکمیل اور ورم گڈہ میں زیر تعمیر ریل اوور برج کی تعمیر کو جلد مکمل کیا جانا ضروری ہے کیونکہ ان دو برجس کی تعمیر میں تاخیر سے نہ صرف انجن باؤلی سے چندرائن گٹہ جانے والی ٹریفک کو بلکہ بندلہ گوڑہ سے شاستری پورم اور انجن باؤلی سے بندلہ گوڑہ یا شاستری پورم جانے والوں کو بھی شدید مشکلات کاسامنا ہے ۔ گنجان آبادی والے ان علاقوں میں کئی برسوں سے زیر تعمیر ان برجس کی تعمیر مکمل نہ ہونے کے نتیجہ میں ٹریفک مسائل بھی بڑھتے جار ہے ہیں حالانکہ انجن باؤلی سے چندرائن گٹہ جانے والی ٹریفک کو روزانہ شام کے وقت جام کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ فلک نما برج سے متصل برج کی عاجلانہ تکمیل پر مسلسل نمائندگی کے باوجود یہ برج ابھی تک مکمل نہیں ہوا بلکہ انتہائی سست رفتاری سے کاموں پر شہریوں کی ناراضگی میں اضافہ ہوتا جارہاہے اسی طرح انجن باؤلی سے ورم گڈہ جانے والی سڑک کی توسیع کے کام بھی سست رفتاری سے جاری ہیں اور ورم گڈہ ریل اوور برج کی تعمیر کے متعلق مقامی عوام سے شکایت کی جار ہی ہے کہ برج کی تکمیل کیلئے معلنہ وقت سے کئی سال زیادہ گذر جانے کے باوجود اس کو مکمل نہیں کیاگیا جبکہ فلک نما برج سے متصل برج کو نئے برج کی کشادگی کے اندرون ایک سال مکمل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے ذمہ داروں سے استفسار پر وہ کہہ رہے ہیں کہ محکمہ ریلوے سے تاخیر کے نتیجہ میں برج مکمل کرنے میں تاخیر ہورہی ہے جبکہ ریلوے عہدیداروں کا استدلال ہے کہ محکمہ آبرسانی کی جانب سے پائپ لائن کی تبدیلی و تنصیب میں تاخیر اصل وجہ ہے جبکہ برج کی تکمیل کے کاموں کی رفتار کو اگر تیز کیاجاتا ہے تو اندرون 3 ماہ فلک نما برج سے متصل برج کے کاموں کو مکمل کیا جاسکتا ہے ۔3