فنڈس کی کمی اور گمراہ کن وائرل خبروں سے کانگریس امیدواروں کو نقصان

   

پارٹی کی جانب سے کوئی مالی مددنہیں، پرانے شہر میں امیدواروں کو ہراسانی کا سامنا
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے اگرچہ پوری طاقت جھونک دی تھی لیکن امیدواروں کو فنڈس کی کمی اور سوشیل میڈیا میں رائے دہی سے عین قبل اتم کمار ریڈی سے متعلق گمراہ کن اطلاعات کے وائرل ہونے سے پارٹی کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ رائے دہی کی تکمیل کے بعد پارٹی قائدین نے تمام بلدی ڈیویژنس میں پارٹی کے مظاہرہ کے بارے میں امیدواروں سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ پارٹی قیادت کو موصولہ رپورٹس کے مطابق ٹی آر ایس اور بی جے پی نے رائے دہی سے عین قبل بھاری رقومات خرچ کیں جبکہ کانگریس امیدواروں کے پاس فنڈس کی کمی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر پارٹی نے اپنے امیدواروں کو دو مراحل میں فنڈس جاری کئے جبکہ کانگریس کی جانب سے صرف چند ایک امیدواروںکو معمولی رقم فراہم کی گئی جو رائے دہی کے دن کا خرچ بھی پورا کرنے سے قاصر تھی۔ انتخابی مہم اور رائے دہی کے موقع پر ہر امیدوار کو بھاری رقم خرچ کرنی پڑتی ہے اور رقومات کی تقسیم کے بغیر انتخابی مہم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ پولنگ اسٹیشنوں میں پولنگ ایجنٹس کے لئے اور ہر پولنگ اسٹیشن کی نگرانکار ٹیموں کو رقم کی ادائیگی لازمی ہے۔ ایسے میں کانگریس پارٹی کے ایسے میں کانگریس پارٹی کے امیدواروں کو فنڈس کی قلت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ انتخابی مہم میں دیگر پارٹیوں سے پیچھے رہ گئے۔ کئی بلدی ڈیویژنس میں کانگریس کا کوئی الیکشن ایجنٹس موجود نہیں تھا اور نہ ہی کانگریس کارکنوں کو رائے دہندوں کی رہنمائی کیلئے کاؤنٹرس قائم کئے تھے۔ پرانے شہر کے علاقوں میں اصل مقابلہ مجلس اور بی جے پی کے درمیان دکھائی دیا جبکہ جن حلقوں میں کانگریس کا موقف مضبوط تھا ، وہاں مقامی جماعت کی جانب سے ہراسانی کے سبب کارکن خاموش ہونے پر مجبور ہوگئے۔ نئے شہر کے بلدی ڈیویژنس میں کانگریس امیدواروں کے پاس فنڈس کی کمی مہم میں اہم رکاوٹ ثابت ہوئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ امیدواروں نے کئی مرتبہ پارٹی قیادت کو فنڈس کیلئے توجہ دلائی لیکن گاندھی بھون سے صاف طور پر کہہ دیا گیا کہ اس مرتبہ پارٹی کچھ بھی رقم فراہم کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ ایسے حلقہ جات جہاں کانگریس کی کامیابی کے امکانات تھے، معمولی رقوم فراہم کی گئی۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں پارٹی کے سینئر قائدین جن میں عوامی نمائندے شامل ہیں، انہوں نے امیدواروں کیلئے فنڈس کا انتظام کیا ۔ اسی دوران رائے دہی سے عین قبل سوشیل میڈیا میں اتم کمار ریڈی کے نام سے ایک اپیل وائرل ہوئی جس میں ٹی آر ایس کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی تھی ۔ اتم کمار ریڈی نے اس رپورٹ کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے تردید کی لیکن سوشیل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہونے کے نتیجہ میں رائے دہندوں اور پارٹی کیڈر میں الجھن پیدا ہوئی ہے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی نے انتخابی مہم کے سلسلہ میں سوشیل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا ہے۔