فنڈس کی کمی کے باعث حکومت تمام ادائیگیوں کو روک دینے پر مجبور

   


سی ایم او کی اجازت کے بغیر بلز ادا نہ کرنے احکام جاری
حیدرآباد :۔ فنڈس کی شدید کمی کے باعث ریاستی حکومت سوائے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنس کہ تمام ادائیگیوں کو روک دینے پر مجبور ہوگئی ہے ۔ محکمہ فینانس کو زبانی طور پر ہدایات جاری کی گئیں کہ چیف منسٹر کے دفتر کی اجازت کے بغیر کوئی بلز کے لیے ادائیگی نہ کی جائے ۔ تمام ادائیگیوں کو روک دینے کے حکومت کے فیصلہ کے بعد ٹریژریز ڈپارٹمنٹ میں سمجھا جاتا ہے کہ 15000 کروڑ روپئے سے زائد کے بلز رک گئے ہیں ۔ حالانکہ بلز محکمہ فینانس کی جانب سے منظور کئے گئے اور کلیرنس کے لیے ٹوکنس جاری کئے گئے لیکن ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے اعلیٰ سطح سے جاری کی گئی ہدایت کے بعد تمام ادائیگیوں کو روک دیا ۔ ریاستی حکومت کو لاک ڈاؤن کے باعث اس مالیاتی سال 2020-21 کے اپریل میں آغاز سے فنڈس کی شدید قلت کا سامنا ہے ۔ جس کی وجہ مالیاتی بحران کی صورتحال ہوگئی ہے ۔ محکمہ فینانس کے تخمینہ کے مطابق ریاستی حکومت کو اس مالیاتی سال میں تاحال 60,000 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ حکومت روز بہ روز کے اخراجات پورا کرنے اور ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے اور پنشنس کی ادائیگی کے لیے قرضوں پر انحصار کررہی ہے ۔۔