یونین بینک آف انڈیا کی شکایت کے باوجود کیس کو سی بی آئی کے حوالے نہیں کیا گیا
بنگلورو : بی جے پی نے ہفتہ کے روز کرناٹک کے وزیر اعلی سدارامیا پر درج فہرست قبائل کی ترقی کے لئے فنڈز کے غبن میں ملوث بدعنوان عہدیداروں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ کانگریس زیرقیادت ریاستی حکومت نے کرناٹک مہارشی والمیکی شیڈولڈ ٹرائب ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ سے 89.63 کروڑ روپے لوٹے ہیں۔ بی جے پی نے سوشل میڈیا پر یہ تیکھا الزام عائد کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سکریٹری این منجوناتھ پرساد کی طرف سے لکھے گئے ایک خط کو منسلک کیا، جس میں آر بی ایل بینک سے فنڈز منجمد کرنے اور 89.63 کروڑ روپے واپس کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ بی جے پی نے یونین بینک آف انڈیا کی شکایت کے باوجود کیس سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے حوالے نہ کرنے پر سدارامیا کو تنقید کا نشانہ بنایا، بی جے پی نے پوچھاکہ یونین بینک آف انڈیا کی شکایت کے باوجود اس نے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیوں نہیں کیا؟ پارٹی نے اشارہ دیا کہ سدارامیا نے غلط استعمال شدہ فنڈز سے ذاتی طور پر فائدہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے پوچھاکہ سدارامیا کا اس میں کیا کردار ہے ؟ وہ کیا چھپا رہے ہیں؟ واضح رہے کہ 27 مئی کو انکشاف ہوا تھا کہ کارپوریشن کے اکاؤنٹ سے 89.63 کروڑ روپے نکالنے کے لیے جعلی چیک اور آر ٹی جی ایس درخواستوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ بعد میں یہ رقم آر بی ایل بینک کے مختلف کھاتوں میں منتقل کردی گئی۔ یونین بینک آف انڈیا نے دھوکہ دہی کے لین دین کا احساس کرنے پر آر بی ایل بینک سے فنڈز منجمد کرنے اور کارپوریشن کو واپس کرنے کی درخواست کی تھی۔ اس واقعہ نے سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے ۔ بی جے پی نے کانگریس کی قیادت والی حکومت سے شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کیا ہے ۔