یانگون : یکم فروری کی بغاوت کے بعد میانمار کے فوجی سربراہ نے پہلی مرتبہ ایک انٹرویو دیا ہے۔ چین کے فونیکس ٹیلی ویژن کو دیئے گئے انٹرویو میں مِن آنگ لائنگ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن رہنما آنگ سان سوچی کی طبیعت بالکل ٹھیک ہے اور انہیں جلد ہی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا۔75سالہ لائنگ کے مطابق سوچی کے خلاف کئی مقدمات ہیں اور انہوں نے ملکی رازداری کے قانون کی بھی صریحاً خلاف ورزی کی ہے۔ فوجی سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ملک میں ’جمہوریت کی بحالی کے لیے ہر وہ اقدام کر رہے ہیں، جو وہ کر سکتے ہیں۔‘‘ بین الاقوامی سطح پر میانمار کی فوجی بغاوت کو شدید تنقید کا سامنا رہا ہے جبکہ امریکا اس ملک کے خلاف پابندیاں بھی عائد کر چکا ہے۔ تاہم چین کا رویہ میانمار کے حوالے سے نرم ہے۔
