اسکیم کے خلا ف داخل دو درخواستیں خارج‘ ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار
نئی دہلی :مرکزی حکومت کے ذریعہ فوج میں بھرتی کے لیے لائے گئے مشہور منصوبہ ’اگنی پتھ‘ کے خلاف داخل دو عرضیوں کو پیر کے روز سپریم کورٹ نے خارج کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تبصرہ میں واضح لفظوں میں کہا کہ یہ منصوبہ من مانا نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ مفاد عامہ دیگر نظریات سے زیادہ اہم ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگنی پتھ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے فوج میں بھرتی کے عمل میں منتخب ہو چکے امیدواروں کو تقرری کا حق نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ فروری میں دہلی ہائی کورٹ نے اگنی پتھ منصوبہ کی اہلیت کو برقرار رکھا تھا جس کے خلاف عدالت عظمیٰ میں دو عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اگنی پتھ منصوبہ قومی مفاد میں تیار کیا گیا تھا اور یہ یقینی کرنے کے لیے کہ مسلح افواج بہتر طریقے سے تیار ہوں۔10 اپریل کو گوپال کرشن اور وکیل ایم ایل شرما کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ ’’ہم ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت نہیں کریں گے۔ ہائی کورٹ نے اس کے سبھی پہلوؤں پر غور کیا تھا۔‘‘ حالانکہ بنچ نے اگنی پتھ منصوبہ شروع کرنے سے پہلے ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) میں بھرتی سے متعلق ایک تیسری تازہ عرضی کو 17 اپریل کے لیے سماعت کی فہرست میں شامل کر لیا۔ بنچ نے مرکز سے ہندوستانی فضائیہ میں بھرتی سے متعلق تیسری عرضی پر اپنا جواب داخل کرنے کو کہا ہے۔حکومت کی جانب سے فوج میں بھرتی کے لیے اگنی پتھ اسکیم کی بڑے پیمانے پر مخالفت کی گئی۔ 4 سال کے لیے بھرتی پر خود امیدواروں نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر پرتشدد احتجاج کیا جبکہ دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں نے بھی حکومت کی فوج میں بھرتی کے لیے اس اسکیم کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ مختصر وقفہ کے لیے فوج میں بھرتی سے فوج کے حوصلے پست ہوں گے اور 4 سال کے بعد ان کا مستقبل تاریک ہوجائے گا لیکن حکومت نے امیدواروں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ 4 سال فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد مختلف محکمہ جات میں ان کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس طرح اگنی پرتھ میں بھرتیوں کا آغاز ہوا۔