اہم ملزم رادھا کشن راؤ کی موجودگی میں سوالات، پولیس اسٹیشن کے باہر ماحول کشیدہ، بی آر ایس کارکنوں کا احتجاج
حیدرآباد 23 جنوری (سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ اسکام کی تحقیقات میں بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ سے خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے آج تقریباً 7 گھنٹوں تک پوچھ تاچھ کی اور ٹیلیفون ٹیاپنگ پر معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے کے ٹی آر کو کل نوٹس جاری کرکے آج 11 بجے دن جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن حاضر ہونے کی ہدایت دی تھی۔ نوٹس کے ٹی آر کی قیامگاہ پر حوالہ کی گئی، اُس وقت کے ٹی آر سرسلہ میں تھے۔ نوٹس کی اطلاع پر وہ حیدرآباد پہونچے اور وکلاء سے مشاورت کی۔ صبح سے کے ٹی آر کی قیامگاہ پر سینئر قائدین کا تانتا بندھ گیا جو نوٹس پر برہمی کا اظہار کررہے تھے۔ 2 دن قبل تحقیقات کا سامنا کرنے والے سابق وزیر ہریش راؤ بھی کے ٹی آر کی قیامگاہ پہونچے۔ بعد میں کے ٹی آر نے تلنگانہ بھون میں قائدین و کارکنوں سے ملاقات کی۔ وہ ٹھیک 11 بجے جوبلی ہلز اسسٹنٹ کمشنر پولیس دفتر پہونچے جہاں سینکڑوں حامی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کئے اور بی آر ایس قائدین و وکلاء کو بھی تحقیقات کے دوران موجودگی کی اجازت نہیں دی۔ بتایا گیا کہ تحقیقاتی ٹیم نے اسکام کے ایک اہم ملزم ریٹائرڈ ڈپٹی کمشنر پولیس رادھا کشن راؤ کی موجودگی میں پوچھ تاچھ کی۔ عہدیداروں نے تحقیقات میں رادھا کشن راؤ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر کے ٹی آر سے سوالات کئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ٹی آر نے ٹیلیفون ٹیاپنگ اسکام سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور عہدیداروں کے سوالات کا بہتر انداز میں جواب دیا۔ تحقیقاتی ٹیم کے عہدیداروں نے 2 علیحدہ ٹیموں کی شکل میں کے ٹی آر سے پوچھ تاچھ کی۔ صبح 11 تا شام 6 بجے تحقیقات جاری رہیں جس کے بعد کے ٹی آر کو جانے کی اجازت دی گئی۔ بتایا گیا کہ حکام نے کہاکہ ضرورت پر دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ حکومت نے کمشنر پولیس حیدرآباد وی سی سجنار کی قیادت میں دوسری 10 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے جس کے بعد سے تحقیقات میں تیزی پیدا ہوگئی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ تحقیقات میں سیاسی قائدین، فلم ایکٹرس اور دیگر افراد سے جو بیانات ریکارڈ ہوئے اُن میں کے ٹی آر کا نام شامل ہوا جس کے سبب اُنھیں طلب کرنا پڑا۔ تحقیقات میں مزید سیاسی قائدین کو طلب کئے جانے کا امکان ہے۔ بی آر ایس دور میں سیاسی قائدین، صحافیوں، فلمی شخصیتوں حتیٰ کہ ججس کے یفون ریکارڈ کرنے کی جانچ کیلئے کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ کے ٹی آر کی جوبلی ہلز پولیس میں موجودگی تک سینکڑوں بی آر ایس کارکن سڑک پر دھرنا دے رہے تھے ۔ کئی مرتبہ پارٹی قائدین نے پولیس اسٹیشن میں داخلہ کی کوشش کی جس پر اُنھیں حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ ڈی سی پی رادھا کشن راؤ کی موجودگی میں کے ٹی آر کی تفتیش سے پولیس کو کئی اہم معلومات ملی ہیں۔ رادھا کشن راؤ اسکام میں A4 ملزم کے طور پر شامل ہیں۔ 2023ء اسمبلی انتخابات پر فون ٹیاپنگ کی شکایات ملی تھیں۔ اپوزیشن قائدین میں ریونت ریڈی اور مہیش کمار گوڑ کے فون بھی ٹیاپ کئے جانے کی اطلاع ہے۔ تحقیقات کے بعد کے ٹی آر جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن سے تلنگانہ بھون پہونچے اور پارٹی قائدین سے ملاقات کی۔1