حیدرآباد 27 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ کے فون ٹیاپنگ اسکام معاملہ میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے آج بی آر ایس کے جنرل سکریٹری اور سابق رکن راجیہ سبھا سنتوش کمار کو طلب کرتے ہوئے فون ٹیاپنگ معاملہ کے سلسلہ میں طلب کیا۔ جے سنتوش کمار 3 بجے سہ پہر جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن پہونچے جہاں خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے عہدیداروں نے اُن سے فون ٹیاپنگ معاملہ میں پوچھ تاچھ کی۔سہ پہر 3 بجے سے رات تقریباً 11 بجے تک تحقیقاتی عہدیداروں نے سنتوش کمار سے مختلف پہلوؤں پر سوالات کئے۔ 8 گھنٹوں کی جانچ کے بعد رات 11 بجے اُنھیں گھر جانے کی اجازت دی گئی۔ خصوصی ٹیم نے اسکام کی جانچ کے سلسلہ میں سی آر پی سی کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کیا تھا۔ اُنھیں اِس معاملہ میں بطور گواہ بیان درج کرانے کی خواہش کی گئی تاکہ فون ٹیاپنگ معاملہ کے اہم اُمور کو بے نقاب کیا جاسکے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سنتوش کمار بی آر ایس دور حکومت میں فون ٹیاپنگ معاملہ سے واقف ہیں۔ تلنگانہ حکومت نے 2024ء سے فون ٹیاپنگ معاملہ کی تحقیقات کا آغاز کیا اور ڈسمبر میں کمشنر حیدرآباد وی سی سجنار کی قیادت میں ایک علیحدہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی جس کے بعد سے تحقیقات میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔ بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو 23 جنوری اور ہریش راؤ کو 20 جنوری کو تحقیقاتی ٹیم نے طلب کیا تھا۔ اِن دونوں قائدین کی طلبی کے بعد سنتوش کمار تیسرے اہم بی آر ایس قائد ہیں جنھیں نوٹس دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم نے بی آر ایس کے سابق رکن اسمبلی جئے پال یادو، سابق ایم ایل سی سی ایچ لنگیا سے بھی پوچھ تاچھ کی ہے۔ سابق پولیس عہدیداروں پربھاکر راؤ، رادھا کشن راؤ اور پرنیت راؤ سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ فون ٹیاپنگ معاملہ میں سدی پیٹ سے تعلق رکھنے والے چکردھر گوڑ کی شکایت پر پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا جس کے بعد سے تحقیقات کا آغاز ہوچکا ہے۔ جوبلی ہلز اسسٹنٹ کمشنر پولیس کے دفتر میں سنتوش کمار سے مختلف عہدیداروں نے فون ٹیاپنگ معاملہ میں سوالات کئے۔ ایس آئی ٹی نے واضح کیاکہ ضرورت پڑنے پر سنتوش کمار کو دوبارہ طلب کیا جاسکتا ہے۔1