فون ٹیاپنگ اسکام ، سابق وزیر ہریش راؤ کو سپریم کورٹ سے راحت

   

Ferty9 Clinic

تلنگانہ حکومت کی درخواست مسترد، ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار
حیدرآباد ۔5 ۔ جنوری (سیاست نیوز) فون ٹیاپنگ اسکام معاملہ میں سابق وزیر اور بی آر ایس لیڈر ہریش راؤ کو سپریم کورٹ سے راحت ملی ہے۔ تلنگانہ حکومت نے فون ٹیاپنگ اسکام میں ہریش راؤ اور سابق ڈی سی پی رادھا کرشن راؤ کے خلاف دو علحدہ درخواستیں داخل کی تھیں جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا۔ جسٹس بی وی ناگا رتنا اور جسٹس اجل بھویاں پر مشتمل بنچ نے ہائی کورٹ کے احکامات میں مداخلت سے انکار کردیا۔ واضح رہے کہ ہائی کورٹ نے ہریش راؤ اور رادھا کرشن راؤ کے خلاف دائر کردہ ایف آئی آر کو کالعدم کردیا تھا۔ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ دونوں فون ٹیاپنگ اسکام میں ملوث ہیں۔ فریقین کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کی درخواستوں کو مسترد کردیا اور ہائی کورٹ کے احکامات کو برقرار رکھا ہے۔ حکومت کی اسپیشل لیو پٹیشن کے مسترد کئے جانے سے سابق وزیر ہریش راؤ کو بڑی راحت ملی ہے۔ ڈسمبر 2024 میں سدی پیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک صنعت کار جی چکردھر گوڑ نے بی آر ایس دور حکومت میں اس وقت کے وزیر ہریش راؤ کی ہدایت پر ان کا ٹیلیفون ٹیاپ کئے جانے کی شکایت کی۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے ذہنی اذیت دیئے جانے اور فون ٹیاپنگ کے خلاف پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں شکایت کی۔ پولیس نے ہریش راؤ کے خلاف ایف آئی آر درج کیا تھا ۔ ہریش راؤ نے ایف آئی آر کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور 20 مارچ 2025 کو ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے کالعدم کردیا کہ ہریش راؤ کے خلاف فون ٹیاپنگ معاملہ میں ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ پولیس فون ٹیاپنگ معاملہ میں ہریش راؤ کے نام کو شامل کرنے کی مساعی کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم جلد ہی ہریش راؤ اور دوسروں کو نوٹس جاری کرے گی۔1