فارم ہاؤز اور اے آئی سی سی کے درمیان سمجھوتے تک سلسلہ جاری رہے گا
حیدرآباد ۔ 24 جنوری (سیاست نیوز) مرکزی مملکتی وزیر بنڈی سنجے نے فون ٹیاپنگ کیس کی تحقیقات پر کانگریس حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تحقیقات کے نام پر ڈرامے کئے جارہے ہیں جس سے تلنگانہ حکومت کی ساکھ متاثر ہورہی ہے اور عوام اس تحقیقات پر ہنس رہے ہیں۔ حکیم پیٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بنڈی سنجے نے کہا کہ فون ٹیاپنگ سے سب کو ناراض کرنے والے کے ٹی آر کو گواہ کے طور پر طلب کرنا اور ان کا بیان ریکارڈ کرنا ایک عجیب و غریب صورتحال ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب تک فارم ہاوز اور اے آئی سی سی کے درمیان کوئی سمجھوتہ نہیں ہوجاتا تب تک فون ٹیاپنگ کی تحقیقات کے نام پر ڈرامے جاری رہیں گے۔ مرکزی مملکتی وزیر نے کہا کہ اگرچہ کہ ایس آئی ٹی میں قابل اور ایماندار آفیسرس موجود ہیں لیکن ریاستی حکومت انہیں آزادانہ طور پر کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ انہوں نے عہدیداروں پر دباؤ ڈالنے کا حکومت پر الزام عائد کیا انہیں حکومت کے اشاروں پر تحقیقات کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ اس صورتحال سے کانگریس حکومت کی نااہلی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بنڈی سنجے نے ریاست میں بڑھتے ہوئے مسائل اور بیروزگاری پر بھی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ حکومت ان مسائل کو نظرانداز کررہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹی جی پی ایس سی اب لیکجیس، بدعنوانی اور عدالتی مقدمات کا مترادف بن چکا ہے جس کے بعد تقررات، امتحانات برسوں سے احتجاج اور مظاہروں کی نذر ہورہی ہیں۔ بنڈی سنجے نے مرکز کی نریندر مودی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت شفاف طریقے سے روزگار فراہم کررہی ہے۔ بدعنوانی یا پیپر لکیج کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسٹارٹ اپ انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا اور میک ان انڈیا جیسے پروگراموں کے ذریعہ نوجوانوں کو نہ صرف خود روزگار حاصل کررہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کررہے ہیں۔2