انتقامی کارروائی کا الزام مسترد، بی آر ایس دراصل بلیک میل راشٹرا سمیتی
حیدرآباد۔ یکم؍ فروری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس دور حکومت میں سیاسی قائدین، اہم شخصیتوں اور فلمی ستاروں کے ٹیلی فون ٹیاپ کرنے کا سنگین جرم کیا گیا جس کے لئے اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر برابر کے ذمہ دار ہیں۔ گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی جانب سے تحقیقات کے لئے طلب کئے جانے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے سلسلہ میں کے سی آر کی حیدرآباد آمد کے دوران ریاست کے مختلف علاقوں میں بی آر ایس قائدین نے غیر ضروری طور پر ہنگامہ کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ بی آر ایس کو بلیک میل راشٹرا سمیتی قرار دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ 10 سالہ دور اقتدار میں فون ٹیاپنگ کے ذریعہ سیاستدانوں، فلم ایکٹرس اور صنعت کاروں کو بلیک میل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قائدین جن کے ٹیلی فون ٹیاپ کئے گئے وہ اپنے بیانات درج کرا رہے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے کے ٹی آر، ہریش راؤ اور سنتوش راؤ کی طرح کے سی آر کو نوٹس جاری کی جو قانون کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی نوٹس اور تحقیقات کو انتقامی سیاسی کارروائی قرار دینے مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فون ٹیاپنگ سے کے سی آر کا کوئی تعلق نہیں تو پھر وہ خوفزدہ کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ کے سی آر ابھی بھی خود کو تلنگانہ کا حکمراں تصور کررہے ہیں۔ قانون کی نظر میں ہر شہری برابر ہے چاہے وہ سابق چیف منسٹر کیوں نہ ہوں۔ سابق میں شیبوسورین، مایاوتی، جئے للیتا، لالوپرساد یادو اور یدویورپا کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے جیل بھیجا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی گراف قانون کے تحت فون ٹیاپنگ انتہائی سنگین جرم ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بی آر ایس دور حکومت میں انقلابی شاعر غدر اور پروفیسر کودنڈا رام کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا گیا تھا۔ کے سی آر تحقیقات کے لئے اپنی ضعیف العمری کا بہانہ بنا رہے ہیں حالانکہ غدر اور کودنڈا رام کی ضعیف العمری کے باوجود ان کا احترام نہیں کیا گیا۔ 1