جمہوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری، بہت جلد ماسٹر مائینڈ بے نقاب ہوگا
حیدرآباد ۔ 24 جنوری (سیاست نیوز) ریاستی وزیر جوپلی کرشناراؤ نے واضح کیا کہ فون ٹیاپنگ کیس میں قصوروار پائے جانے والوں کو سخت سے سخت سزاء دی جائے گی۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ایکسائز جے کرشنا راؤ نے کہا کہ فون ٹیاپنگ کرنا ناقابل معافی جرم ہے۔ اس کو صرف سیاسی سازش قرار دینا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات مکمل طور پر جمہوری اور غیرجانبدارانہ طریقے سے کی جارہی ہے۔ فون ٹیاپنگ میں ملوث افراد کے ساتھ ساتھ اس کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈ کا بھی پتہ لگایا جائے گا۔ وزیر نے کہا کہ ویجلنس ڈپارٹمنٹ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے چلتا ہے۔ ایسے میں ماضی کی کے سی آر حکومت کے اقدامات پر سوال اٹھانا اور تحقیقات کرنا کانگریس حکومت کی ذمہ داری ہے۔ جوپلی کرشناراؤ نے کہا کہ فون ٹیاپنگ کے الزامات ماضی میں بھی سامنے آچکے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آر ایس پروین کمار بھی فون ٹیاپگ کے الزامات عائد کرچکے تھے۔ آئی اے ایس آفیسر اے مرلی نے بھی اس مسئلہ پر بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سابق گورنر تملی سائی کا بھی فون ٹیاپنگ کئے جانے کا ذکر سامنے آیا تھا۔ سابق وزیر کے ٹی آر کے بشمول دوسروں نے بھی فون ٹیاپنگ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ جوپلی کرشنا راؤ نے کہا کہ کے ٹی آر کو صرف دفعہ 160 سی آر پی ایف کے تحت نوٹس دیا گیا تھا اور انہیں ملزم نہیں سمجھنا چاہئے۔ پولیس نے انہیں صرف گواہ کے طور پر معلومات حاصل کرنے کیلئے طلب کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے پروفیسر کودنڈارام کو بھی ماضی میں غیرقانونی طور پر گرفتار کیا گیا تھا جس سے اس معاملے کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔ وزیر نے سوال اٹھایا کہ ایس آئی بی کے سابق چیف منسٹر پربھاکر راؤ امریکہ کیوں گئے تھے۔ تحقیقات قانون کے مطابق ہورہی ہے۔2