ای میل یا میسیج سے لاٹری کا لالچ ، بینک سے کال کا جھوٹا فون ، عوام کو چوکس رہنے کی ضرورت
حیدرآباد۔11جولائی (سیاست نیوز) ایک فون کال یا ایک ایس ایم ایس آپ کے بینک کھاتہ میں موجود مکمل رقم کے خاتمہ کا سبب بن سکتا ہے اسی لئے کسی بھی فون کال پر اپنے کریڈیٹ یا ڈیبیٹ کارڈ کی تفصیلات یا فون پر موصول ہونے والے او ٹی پی نمبر کے متعلق نہ بتائیں کیونکہ یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعہ عوام کو ٹھگا جانے لگا ہے۔ ای ۔میل یا فون پر میسیج کے ذریعہ لاٹری کی اطلاع اور بھاری رقم جیتنے کے لالچ کے ساتھ یہ بھی طریقہ اختیار کیا جانے لگا ہے کہ بینک صارفین کو ایک کال موصول ہوتی ہے اور کہا جا تا ہے کہ وہ بینک سے کال ہے اور آپ کا ویریفیکیشن کیا جا رہاہے اسی لئے آپ سے تفصیلات درکار ہیں لیکن بینک کی جانب سے موصول ہونے والے کال میں کریڈیٹ یا ڈیبیٹ کارڈ کی تفصیلات حاصل نہیں کی جاتی بلکہ نام اور دیگر تفصیلات کی بنیاد پر بینک ملازمین اپنے پاس موجود ریکارڈ سے تصدیق کر لیتے ہیں لیکن جو دھوکہ دینے اور بینک کھاتہ میں موجود رقم کو منہاء کرنے کے لئے کال کرتے ہیں وہ کال جاری رکھتے ہوئے کریڈیٹ اور ڈیبیٹ کارڈ کی تفصیلات اور اس کے بعد فون پر موصول ہو نے والے او ٹی پی کے متعلق تفصیلات حاصل کرتے ہیں اور اگر کوئی شخص غفلت میں یہ تمام تفصیلات حوالہ کردیتا ہے تو ایسی صورت میں فون رکھنے سے قبل اس کے کھاتہ میں موجود تمام رقم لوٹ لی جاتی ہے ۔ سائبر دھوکہ دہی کے واقعات میں حالیہ عرصہ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ بین الاقوامی سطح پر چلائے جانے والے ان ریاکٹ کے سلسلہ میں کئی ممالک کی پولیس متحرک ہے اور اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ ان سائبر مجرمین کو گرفتار کرے لیکن سائبر دھوکہ دہی کے ذریعہ عوام کو لوٹنے والے ان افراد تک رسائی انتہائی مشکل ہے کیونکہ یہ لوگ کبھی کسی شہر میں تو کبھی کسی شہر میں ہوتے ہیں اور یہ مختلف شہروںاور ریاستوں کے فون نمبرات دیگر شہروں میں استعمال کرتے ہیں۔ ان سائبر دھوکہ بازوں سے متحرک رہنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ عوام خود چوکنا رہیں اور کسی بھی ایسے فون کال پر اپنے بینک کھاتہ سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہ کریں جس کے ذریعہ انہیں لوٹا جا سکتا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ ملک بھر میں یومیہ 10تا12کروڑ روپئے تک کی دھوکہ دہی انجام دی جاتی ہے لیکن 3تا5ہزار روپئے تک کی کئی شکایتیں بینک اور پولیس تک بھی نہیں پہنچتی جبکہ عام طور پر بینک اور پولیس تک پہنچنے والی شکایات 20 ہزار سے متجاوزکرنے والی ہوتی ہیں اور ان شکایات پر کاروائی کیلئے سائبر سیکیوریٹی عملہ اور پولیس کو ملک کے مختلف شہروں کا دورہ کرنا ہوتا ہے اسی لئے معمولی رقومات کی دھوکہ دہی کی شکایات پر کوئی بڑے پیمانے پر کاروائی نہیں کی جاتی اور جب ایسے کئی واقعات ہوجاتے ہیں تو بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے ریاکٹ کو بے نقاب کیا جاتا ہے لیکن اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے۔