فوڈ ڈیلیوری کی بڑھتی مانگ پرروبوٹ کا استعمال

   

نیویارک : امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں اور گلیوں میں سینکڑوں کی تعداد میں روبوٹ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جو دراصل کھانا ڈیلوری کرنے والے شخص کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق روبوٹ بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا کے دوران ملازمین کی قلت سے نمٹنے کے لیے روبوٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔اسٹارشپ ٹیکنالوجی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ روبوٹ کے استعمال کی طلب میں بے حد اضافہ ہوا ہے، طلب پہلے سے موجود تھی، لیکن کورونا کے اثرات کے باعث یہ طلب کھل کر سامنے آئی ہے۔اسٹارشپ ٹیکنالوجی کے پاس ایک ہزار سے زیادہ روبوٹ موجود ہیں جو 2019 میں صرف 250 تھے۔ ان روبوٹس کے ذریعے 20 امریکی یونیورسٹیوں کے کیمپسیز پر کھانا ڈیلیور کیا جاتا ہے۔ مختلف ڈیئزانز کے روبوٹ موجود ہیں، کچھ چار یا چھ پہیوں والے بھی ہیں۔لیکن عام طور پر سب میں کیمرا، سینسر اور جی پی ایس سسٹم نصب ہوتا ہے مگر کچھ ایسے بھی ہیں جن میں لیزر سکینرز لگے ہوئے ہیں تاکہ روبوٹ خود کار طریقے سے فٹ پاتھ پر چل سکیں یا روڈ کراس کر سکیں۔روبوٹ کے منزل پر پہنچنے پر صارف کو اپنے فون میں مخصوص کوڈ ٹائپ کرنا پڑتا ہے جس کے درست ثابت ہونے پر وہ روبوٹ میں موجود اپنا کھانا باہر نکال سکتا ہے۔فی الحال روبوٹ میں موجود چند خامیوں کے باعث ان کا استعمال محدود ہے۔ انہیں باقاعدگی سے چارج کرنا پڑتا ہے، یہ آہستہ چلتے ہیں، اور انہیں پہلے سے نشاندہی کیے ہوئے محدود رقبے میں ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔